سہیل وڑائچ نے نئے صوبے الف لیلوی سوچ قرار دے دیے

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے کی کوشش میں مصروف طاقتور فیصلہ سازوں کے پاس کوئی الٰہ دین کا چراغ نہیں کہ اسے رگڑتے ہی جن حاضر ہو جائے اور ملک کے تمام مسائل چند لمحوں میں حل ہو جائیں، اس لیے انہیں الف لیلوی داستانوں اور افسانوی تصورات سے باہر نکل کر حقیقی دنیا کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان کے بقول نئے صوبے بننے سے نہ کرپشن خود بخود ختم ہوگی، نہ پولیس کا رویہ تبدیل ہوگا، نہ عدالتی نظام درست ہوگا اور نہ ہی معیشت راتوں رات بہتر ہو جائے گی۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے واضح کیا کہ ’’الٰہ دین کا چراغ‘‘ سے ان کی مراد ایسا جادوئی یا فوری حل ہے جس کے ذریعے کسی پیچیدہ قومی مسئلے کو محنت، وقت، ادارہ جاتی اصلاحات اور مسلسل عمل کے بغیر یک لخت حل کرنے کی توقع کی جائے۔ ان کے نزدیک پاکستانی معاشرے میں ایسے فوری اور معجزاتی حل کی خواہش پرانی ہے اور مختلف ادوار میں کبھی کسی نئے نظام، کبھی کرپشن کے خاتمے اور کبھی انتظامی تبدیلی کو اسی ’’چراغ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق آج نئے صوبے بھی ایک ایسے ہی ’’نئے چراغ‘‘ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبے زیرِ بحث ضرور آ سکتے ہیں اور چھوٹے انتظامی یونٹ بعض حالات میں مؤثر بھی ہو سکتے ہیں، تاہم انہیں ہر مسئلے کا واحد حل سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے ساتھ آئین و قانون کی عملداری، ادارہ جاتی اصلاح، مقامی حکومتوں کو اختیار اور مسلسل محنت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر حکمران اور صاحبِ اقتدار کو کوئی نہ کوئی ضعیف العقیدہ ’’معجزہ گر‘‘ مل جاتا ہے جو اسے یہ یقین دلا دیتا ہے کہ خدا نے اس ملت کی تقدیر بدلنے کے لیے اسے خاص طور پر منتخب کیا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ابتدا میں صاحب اقتدار حقیقی دنیا میں ہی رہتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اقتدار اسے خود اعتمادی اور طاقت کا احساس فراہم کرتا یے جس سے اس کی سوچ متاثر ہونے لگتی ہے اور وہ خود کو ایک غیر معمولی کردار کا حامل سمجھنے لگتا ہے۔
سہیل وڑائچ نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے لکھا کہ سکندر اعظم، نپولین، صدر ایوب اور جنرل ضیاء الحق کے بارے میں بھی اسی نوعیت کا وہم پیدا ہوا تھا اور ان کے خیال میں یہ طرزِ فکر آج بھی ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ اصلاحاتی ایجنڈا بھی ایسے ہی ’’معجزہ گروں‘‘ کی تخلیق ہو سکتا ہے جو حکمرانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ انہیں خاص طور پر ملک کی تقدیر درست کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اجتماعی مزاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں قوم اکثر ایسے فارمولے، مسیحا یا فاتح کی تلاش میں رہتی ہے جو ایک ہی فیصلے سے تمام مسائل ختم کر دے۔ ان کے مطابق یہی سوچ حقیقی اور تدریجی اصلاح کے بجائے فوری کرشمے کی توقع پیدا کرتی ہے، حالانکہ ریاستی اداروں کی بہتری اور قومی ترقی ایک طویل اور مسلسل عمل کا تقاضا کرتی ہے۔
سہیل وڑائچ نے مثال دی کہ عمران خان کے دور اقتدار میں کراچی کے سمندر سے تیل نکلنے کی خوشخبری کو بھی ایک ’’کرشمہ‘‘ سمجھ کر خوشیاں منائی گئیں، جبکہ بعد میں وہ توقع پوری نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق آج بھی پراسرار دعووں اور پیش گوئیوں کی بنیاد پر قدرتی وسائل کی تلاش جیسے دعوے سامنے آ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اجتماعی طور پر ہم اب بھی شارٹ کٹ کے ہی قائل ہیں اور ہر معاملے میں فوری طور پر غیر معمولی نتائج حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبے قائم ہونے کی صورت میں بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ اگلے ہی دن سکولوں میں اساتذہ کی حاضری بہتر ہو جائے گی، ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور ادویات دستیاب ہو جائیں گی، بجلی چوری ختم ہو جائے گی یا ٹیکس وصولی میں اچانک غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا۔ ان سوالوں سے سہیل وڑائچ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اصل مسئلہ صرف انتظامی نقشے کی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی اور حکمرانی کے بنیادی نظام کی اصلاح ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ چھوٹے انتظامی یونٹ اور بااختیار بلدیاتی نظام انتظامی کارکردگی بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن ان اقدامات کو ’جادوئی حل‘ سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق مقامی حکومتوں کو مؤثر اختیارات دینا، آئین پر تسلسل کے ساتھ عمل کرنا، اداروں کو مضبوط کرنا اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانا دیرپا بہتری کے لیے زیادہ بنیادی عوامل ہیں۔
سہیل وڑائچ نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ قوموں کی تقدیر کسی ’’جن‘‘ کے ذریعے نہیں بدلتی بلکہ مسلسل محنت، منصوبہ بندی اور صبر سے بدلتی ہے۔ ان کے مطابق ترقی کے نتائج دو تین برس میں لازماً سامنے نہیں آتے بلکہ بعض اوقات بیس، پچیس برس تک مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ فوری نتائج کا خواہش مند ہے اور طویل المدت اصلاحات کے لیے درکار صبر کم دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے ’الف لیلوی دنیا‘ سے باہر نکلنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افسانوی فاتحین اور پراسرار کرداروں سے کرشموں کی توقع داستانوں میں تو کی جا سکتی ہے، مگر حقیقی دنیا میں ترقی کا راستہ بتدریج ہوتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی کامیاب قوموں نے دہائیوں تک محنت کی، ادارے بنائے اور پھر ان محنتوں کے نتائج کا انتظار کیا، جبکہ پاکستان میں اکثر ابتدا میں ہی مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔ سہیل وڑائچ نے خبردار کیا کہ جس طرح الٰہ دین کا چراغ اور پارس ایک افسانوی تصور ہیں اور ’’اکسیر اعظم‘‘ ہر مرض کا حقیقی علاج نہیں، اسی طرح نئے صوبوں کو بھی ایسا ’’چراغ‘‘ نہیں سمجھنا چاہیے جو رگڑتے ہی ملک کی تقدیر بدل دے۔ ان کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انتظامی تبدیلی اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہے، لیکن دیرپا قومی اصلاح کے لیے آئین و قانون کی پاسداری، مضبوط ادارے، مسلسل محنت، مقامی حکومتوں کی فعالیت اور طویل المدت حکمتِ عملی ناگزیر ہیں۔
