علیمہ خان کے گرفتاری احتجاجی تحریک کے لیے بڑا جھٹکا

 

 

 

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے حوالے سے سخت وارننگ جاری ہونے کے ایک روز بعد عمران کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری کو تحریک کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت علیمہ خان کو جم خانہ کلب سے گرفتار کر کے 30 روز کے لیے نظربند کر دیا ہے تاکہ مجوزہ تحریک کا مومنٹم نہ بن سکے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کی تحریک کی کامیابی پر پہلے ہی کافی سارے سوالیہ نشان کھڑے ہو چکے ہیں کیونکہ پارٹی کے ورکرز اب کپتان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 26 نومبر کو اسلام آباد سے جوتیاں اٹھا کر بھاگنے کے بعد سے تحریک انصاف کی قیادت کسی بھی لانگ مارچ کو کامیاب نہیں بنا سکی اور اسے لیے 27 ستمبر کا مجوزہ احتجاج بھی ناکامی کا شکار ہو گا۔ تاہم علیمہ خان کی گرفتاری سے رہی صحیح کسر بھی پوری ہو گئی ہے۔

 

خیال رہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کے حکم نامے کے مطابق علیمہ خان کو ان کی گرفتاری کی تاریخ سے 30 روز کے لیے سنٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور کے سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں رکھا جائے گا۔ پولیس کی درخواست اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارشات کو اس فیصلے کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے مواد اور انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد ڈپٹی کمشنر اس بات پر ’قائل‘ ہوئے کہ علیمہ خان کی کسی بھی عوامی مقام پر موجودگی عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا امکان ہے۔ اسی بنیاد پر ان کی پیشگی نظربندی کا حکم جاری کیا گیا۔

 

لاہور پولیس کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ علیمہ خان ماضی میں 9 مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے واقعات میں ملوث رہی ہیں اور انہوں نے کارکنوں کو سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔ یہ الزامات پولیس رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ عدالتی توثیق اس حکم نامے سے ثابت نہیں ہوتی۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ علیمہ خان سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو حکومت کے خلاف متحرک کر رہی تھیں جبکہ عام شہریوں میں حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال پیدا کرنے اور قابل اعتراض نعرے لگوانے کی کوشش بھی کی جا رہی تھی۔ صنانچہ پولیس نے ان سرگرمیوں کو مستقبل میں امن و امان کے لیے خطرے کا باعث قرار دیتے ہوئے ان کی نظربندی کی سفارش کی تھی۔

 

علیمہ کے ایک قریبی رشتہ دار قاسم خان کے مطابق انہیں لاہور میں لاہور جم خانہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا اور بعدازاں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ تحریک انصاف نے علیمہ خان کی نظربندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل علیمہ خان کی گرفتاری سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔

علیمہ خان کی نظربندی ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبات کے ساتھ 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس احتجاج کو سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت واضح کر چکی ہے کہ اسلام آباد کی جانب مارچ اور دارالحکومت میں سڑکوں یا عوامی مقامات کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مریم نواز نے اپنی غلطی کے دفاع میں بلنڈر کیسے کیا؟

اس سے ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد کسی گروہ کو دارالحکومت پر ’دھاوا‘ بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ سیاسی احتجاج ہر جماعت کا حق ہے لیکن احتجاج کے نام پر اسلام آباد کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ اگر احتجاج کے دوران فائرنگ یا مسلح کارروائی ہوئی تو فورسز خاموش نہیں رہیں گی۔ ان کے بقول ماضی کے احتجاجی واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کو نقصان پہنچا اور بعض مواقع پر ہتھیار بھی استعمال کیے گئے، اس لیے اس مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے ردعمل کے حوالے سے واضح قواعد دیے گئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کو روکنے کے لیے سکیورٹی اقدامات سخت تر کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے مختلف مقامات پر کنٹینرز رکھے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ احتجاج کے پیش نظر پنجاب میں دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے تاہم شاہراہیں، انٹرچینجز اور عوامی مقامات بند کرنے یا شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 

 

Back to top button