کیا تحریک انصاف 27 ستمبر کو دوبارہ 9 مئی بنانا چاہتی ہے؟

 

 

 

 

سکیورٹی ایجنسیز نے وفاقی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت 27 ستمبر کو دوبارہ 9 مئی والی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ وارننگ میں کہا گیا ہے کہ مسلح جتھوں کی صورت میں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی سے 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف 27 ستمبر کو ماضی سے بھی بڑے واقعات دہرانے کی تیاری کررہی ہے۔

 

اس صورتحال میں سوال پیدا ہوگیا ہے کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ محض سیاسی احتجاج تک محدود رہے گا یا اس کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور اپنے سیاسی مطالبات کے حق میں کیا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے مسلسل یہ کہا جارہا ہے کہ احتجاج آئینی حق کے تحت کیا جائے گا اور اس کا مقصد سیاسی مطالبات کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے، تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں دارالحکومت کی جانب بڑے پیمانے پر سیاسی کارکنوں کی پیش قدمی معمول کا احتجاج نہیں بلکہ ایک سنجیدہ امن و امان کا چیلنج بن سکتی ہے۔

 

ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے خبردار کر دیا ہے کہ تحریک انصاف 27 ستمبر کو مئی 2023 کے واقعات سے بھی بڑا واقعہ دہرانے کی تیاری کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو اسے پرامن رہنا چاہیے، کسی شخص کے مسلح ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور مارچ کے طریقہ کار پر اسلام آباد انتظامیہ سے بات ہونی چاہیے۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس پی ٹی آئی کی مبینہ تیاریوں سے متعلق معلومات موجود ہیں، تاہم ان اطلاعات کی مزید تصدیق کا عمل جاری ہے۔

 

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہوکر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت میں شرپسندی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر کوئی گروہ دارالحکومت کو بند کرنے یا دوسرے صوبے میں جاکر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں اور احتجاج کی صورت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

 

محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی جانب سے فائرنگ کی گئی تو قانون نافذ کرنے والے اہلکار خاموش نہیں رہیں گے اور انہیں واضح ’رولز آف انگیجمنٹ‘ دیے گئے ہیں۔

 

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے قانونی حدود واضح کردی ہیں۔ تین رکنی بڑے بینچ نے قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما، صوبائی حکومت یا سرکاری عہدیدار کو ایسی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہیں جس کے نتیجے میں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت یا ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری سرگرمیوں تک رسائی متاثر ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ احتجاج کا آئینی حق اپنی جگہ موجود ہے، تاہم کسی سیاسی سرگرمی کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت کے مطابق بنیادی حقوق کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتی ہے اور ذمہ دار سرکاری عہدیداروں کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

عدالتی فیصلے کے بعد حکومت نے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی صورت میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت سمیت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احتجاج کے حوالے سے تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ ماضی میں پیش آنے والے واقعات کو دوبارہ دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

تاہم تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کرتے وقت پارٹی رہنماؤں نے یہ بھی کہا تھا کہ احتجاج ایک روز تک محدود نہیں رہے گا اور ضرورت پڑنے پر کئی دن جاری رہ سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے اگست میں کہا تھا کہ پارٹی مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کرے گی، جبکہ پارٹی کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں سے کارکنوں کو متحرک کرنے کا عمل بھی جاری رکھا گیا۔

ماضی کے واقعات نے بھی حکومت کے خدشات کو سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بنا دیا ہے۔ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد احتجاج ہوئے تھے، جبکہ نومبر 2024 میں بھی پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران اسلام آباد میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور جانی نقصان ہوا۔ حکومت ان واقعات کو اپنے موجودہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد کے طور پر پیش کررہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی ماضی کے واقعات کی ذمہ داری اور ان کی تعبیر کے حوالے سے حکومتی مؤقف کو تسلیم نہیں کرتی۔

علیمہ خان کے گرفتاری احتجاجی تحریک کے لیے بڑا جھٹکا

یہی وجہ ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج اب محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ حکومت، تحریک انصاف، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ پرامن احتجاج کے آئینی حق کو بھی مدنظر رکھے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے کارکنوں کو احتجاج کو پرامن رکھنے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان سے محفوظ رکھنے اور شہریوں کی نقل و حرکت متاثر نہ کرنے کے لیے مؤثر طور پر پابند رکھ سکے۔

اگر احتجاج کے دوران مسلح افراد، شرپسند عناصر یا ایسے گروہ شامل ہوجاتے ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم کریں تو صورتحال تیزی سے سنگین ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب اگر ریاستی ادارے طاقت کے استعمال کی طرف جاتے ہیں تو سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ سیاسی احتجاج اور امن و امان کے درمیان حد کہاں قائم کی جاتی ہے اور دونوں فریق اس حد کو کس حد تک تسلیم کرتے ہیں۔

Back to top button