کیا اسامہ کا بیٹا حمزہ بن لادن واقعی زندہ ہے؟

 

 

 

امریکہ میں نائن الیون حملوں کو 25 برس مکمل ہونے پر القاعدہ کے میڈیا ونگ ’’السحاب‘‘ کی جانب سے جاری کی گئی 52 منٹ سے زائد دورانیے کی ویڈیو نے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کر دیا ہے جسے 8 برس سے مردہ خیال کیا جا رہا تھا۔ ویڈیو میں حمزہ بن لادن واضح طور پر کیمرے کے سامنے گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ امریکہ 2019 میں ان کی ہلاکت کا اعلان کرچکا تھا۔ دوسری جانب اسی ویڈیو میں القاعدہ کے موجودہ سربراہ سیف العدل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ وہ بھی زندہ اور محفوظ ہیں۔

 

’’11 ستمبر حملوں کے ایک چوتھائی صدی بعد‘‘ کے عنوان سے جاری کی گئی اس ویڈیو کو القاعدہ کے میڈیا ونگ ’’السحاب‘‘ نے آن لائن جہادی حلقوں میں استعمال ہونے والے پلیٹ فارمز پر جاری کیا۔ اسے ’’حصہ اول‘‘ قرار دیا گیا ہے جبکہ ویڈیو کے اختتام پر مزید مواد جاری کیے جانے کا بھی اشارہ دیا گیا ہے۔ اس میں 11 ستمبر کے حملوں کے اثرات، القاعدہ کے دیرینہ بیانیے اور عالمی جہادی تحریک کے بارے میں تنظیم کا نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے جبکہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سمیت سابق رہنماؤں کے پرانے بیانات اور آرکائیو فوٹیج بھی شامل ہیں۔

 

ویڈیو کا سب سے غیر معمولی پہلو حمزہ بن لادن کی موجودگی ہے۔ 2015 سے 2018 کے دوران حمزہ القاعدہ کی میڈیا سرگرمیوں میں نمایاں رہے اور تنظیم کی جانب سے مغرب اور دیگر اہداف کے خلاف دھمکی آمیز پیغامات جاری کرتے رہے، تاہم اس دور میں وہ عموماً آڈیو یا تحریری پیغامات کے ذریعے سامنے آتے تھے۔ بعض مواقع پر ان کی بچپن کی فوٹیج بھی استعمال کی گئی، لیکن نئی دستاویزی طرز کی ویڈیو میں انہیں پہلی مرتبہ واضح طور پر کیمرے کے سامنے براہ راست گفتگو کرتے دکھایا گیا ہے۔

 

ویڈیو میں حمزہ بن لادن تین مختصر کلپس میں دکھائی دیتے ہیں جو بظاہر ایک ہی ریکارڈنگ سے لیے گئے ہیں۔ ان کے بیانات میں القاعدہ کے عمومی جہادی بیانیے اور تنظیمی اپیلوں کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم کسی ایسے مخصوص واقعے کا حوالہ نہیں دیا گیا جس کی بنیاد پر یہ تعین ہوسکے کہ یہ فوٹیج کب ریکارڈ کی گئی تھی۔ ویڈیو کی تدوین نے اس معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔ حمزہ کے ایک کلپ کے ساتھ حالیہ برسوں کے مختلف واقعات کی تصاویر اور مناظر دکھائے گئے ہیں، جن میں 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حماس کے حملے اور اگست 2021 میں طالبان کی افغانستان واپسی کے مناظر بھی شامل ہیں۔ حمزہ خود ان واقعات کا براہ راست حوالہ نہیں دیتے، تاہم ان واقعات کو ان کی گفتگو کے ساتھ جوڑے جانے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ریکارڈنگ نسبتاً حالیہ ہوسکتی ہے۔

 

یاد رہے کہ امریکہ نے 2019 میں اعلان کیا تھا کہ حمزہ بن لادن افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے دوران مارے گئے، تاہم واشنگٹن نے ان کی ہلاکت کا وقت، مقام اور حالات تفصیل سے بیان نہیں کیے تھے۔ دوسری جانب القاعدہ نے امریکی اعلان کے بعد بھی حمزہ کی موت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ یہی خلا گزشتہ کئی برسوں سے ان کے زندہ ہونے سے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیتا رہا ہے اور نئی ویڈیو نے اس پرانے سوال کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ بعض مبصرین حمزہ کی تازہ ویڈیو فوٹیج کو اس امکان سے جوڑ رہے ہیں کہ وہ زندہ ہوں، جبکہ بعض کے مطابق یہ فوٹیج پرانی بھی ہوسکتی ہے جسے القاعدہ نے کئی برس بعد جاری کیا ہے۔

 

امریکی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ حمزہ کی نئی ویڈیو کو براہ راست ان کے آج بھی زندہ ہونے کا قطعی ثبوت قرار دینا مشکل ہے، تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ نے انہیں دوبارہ اپنے میڈیا بیانیے میں نمایاں جگہ دی ہے۔ اس ویڈیو میں حمزہ بن لادن کے ساتھ القاعدہ کے مبینہ موجودہ سربراہ سیف العدل کا ذکر بھی انتہائی اہم ہے۔ ایمن الظواہری کی 2022 میں ہلاکت کے بعد سیف کو القاعدہ کا عملاً سربراہ تصور کیا جاتا ہے، اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران میں روپوش ہیں۔ اس نئی ویڈیو میں سیف العدل کی کوئی نئی تصویر یا براہ راست ویڈیو سامنے نہیں آتی بلکہ ان کی تحریروں اور بیانات سے اقتباسات شامل کیے گئے ہیں، تاہم ان کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ تنظیم کے اہم اور زندہ رہنما کے طور پر اب بھی موجود ہیں۔

 

Back to top button