ایران سے معاہدہ ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری کھل جائے گی: امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی تاحال برقرار ہے، تاہم اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے اس بحری راستے کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

سنگاپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کا انحصار ایران کے فیصلوں پر ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا تو آبنائے ہرمز ایک ایسا ’’ٹول فری‘‘ بحری راستہ بن جائے گی جہاں دنیا بھر کے تجارتی اور تیل بردار جہاز بلا رکاوٹ آمدورفت کر سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں، لیکن انہیں یقین ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایسا معاہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے جو امریکی عوام اور عالمی استحکام کے مفاد میں ہوگا۔

پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ ایران یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول ہے، لیکن زمینی حقائق اور خطے میں جاری سرگرمیاں مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پس منظر میں ہونے والی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کی سلامتی اور عملی نگرانی میں امریکا کا کردار فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اسی لیے امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ بین الاقوامی تجارت کے لیے محفوظ اور کھلی رہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ایک ایسے بحری جہاز کو روک کر ناکارہ بنایا جو مبینہ طور پر ایران کی جانب جا رہا تھا اور ناکہ بندی سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کر رہا تھا۔ سینٹ کام کے مطابق خطے میں بحری نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں۔

خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع، جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ اگرچہ دونوں فریقوں کے درمیان بعض امور پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم حتمی معاہدہ تاحال طے نہیں پا سکا۔

سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران کے مؤقف میں نمایاں اختلافات موجود ہیں۔ ایک جانب واشنگٹن اس بحری راستے کو مکمل طور پر آزاد اور بلا رکاوٹ دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران اپنی سلامتی اور علاقائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض شرائط پر زور دے رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کسی قابلِ قبول معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی تیل منڈیوں، بحری تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

Back to top button