ایران، امریکا معاہدے کے غیر رسمی مسودے میں نیا کیا ہے؟

مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی، فوجی کارروائیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی رسہ کشی کے بعد اب ایک ایسا موڑ آتا دکھائی دے رہا ہے جو خطے کی سیاست، عالمی توانائی منڈیوں اور عالمی طاقتوں کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے امریکا کے ساتھ ایک غیر رسمی معاہدے کے مسودے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ’’اسلام آباد مفاہمت‘‘ نامی اس مجوزہ معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی، تاہم اس میں شامل نکات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ سب سے اہم معاملہ آبنائے ہرمز کا ہے، جو دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور جہاں سے عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

لیک ہونے والی معلومات کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی درجہ بندی، ان کی نقل و حرکت کی نگرانی اور بعض صورتوں میں ان کے گزرنے یا نہ گزرنے کے فیصلے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اگر یہ شق حتمی معاہدے کا حصہ بنتی ہے تو یہ ایران کی ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔

مسودے کے مطابق ایران بحری جہازوں سے نیوی گیشن سروس فیس وصول کر سکے گا، سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے فیصلے کر سکے گا اور ماحولیاتی نقصانات کی صورت میں معاوضے کا مطالبہ بھی کر سکے گا۔ اس کے علاوہ تمام بحری جہازوں کو اپنے کارگو کی مکمل تفصیلات ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

مسودے میں دوسرا بڑا نکتہ ایران کے منجمد اثاثوں کا ہے۔ اطلاعات کے مطابق معاہدے کے 60 دن کے اندر ایران کو تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ یہ رقم برسوں سے مختلف پابندیوں کے باعث منجمد تھی اور تہران مسلسل اس کی واپسی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ شرائط حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو ایران داخلی سطح پر اسے اپنی سفارتی فتح کے طور پر پیش کرے گا۔ دوسری جانب امریکا کے لیے بھی یہ معاہدہ ایک بڑے بحران کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران امریکہ معاہدے کے حوالے سے کئی اہم سوالات ابھی باقی ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام کا ہے، جس کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات میں کوئی واضح شق موجود نہیں۔ اسی طرح امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے اب تک اس مسودے کی مکمل تصدیق بھی نہیں کی گئی۔ عالمی ماہرین کے بقول پاکستان کا کردار بھی اس پورے عمل میں خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چونکہ اس مجوزہ فریم ورک کو ’’اسلام آباد مفاہمت‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے، اس لیے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا یہ غیر رسمی مسودہ واقعی ایک حتمی معاہدے میں تبدیل ہوتا ہے یا پھر اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر کے خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے اور آنے والے چند دن عالمی منظرنامے کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔

Back to top button