سولر پینلز،الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ کیوں؟

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی معیاری شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دے دی ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافے اور متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے یہ تجویز وفاقی حکومت کو آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار ارب روپے سے زائد کے ٹیکس ریونیو ہدف کے حصول اور رواں مالی سال میں محصولات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پیش کی ہے۔ تاہم پاکستانی حکام اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ سیلز ٹیکس میں اضافے سے عام شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا۔ذرائع کے مطابق اگر جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کی جاتی ہے تو حکومت کو سالانہ 250 سے 300 ارب روپے تک اضافی محصولات حاصل ہو سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ موجودہ مالی سال میں ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل نہ ہونے کے باعث نئے مالی سال میں محصولات بڑھانے کے لیے اضافی اقدامات ضروری ہوں گے۔

بجٹ تجاویز میں الیکٹرک گاڑیوں، ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینلز پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد تک لے جانے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔اسی طرح سولر پینلز پر عائد موجودہ 10 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو سولر توانائی کے منصوبوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ الیکٹرک کاروں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، بسوں، ٹرکوں، ٹریکٹروں اور دیگر ماحول دوست گاڑیوں کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان تجاویز پر غور جاری ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ریونیو بڑھانے کے ساتھ عوام پر اضافی بوجھ کم سے کم ڈالا جا سکے۔ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق ادارے نے مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 11 ہزار 232 ارب روپے ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ 30 جون 2026 تک 13 ہزار 979 ارب روپے کے ہدف کے حصول کے لیے صرف جون کے مہینے میں 2 ہزار 747 ارب روپے اکٹھے کرنا ہوں گے، جو ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے سے اگرچہ حکومتی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ مہنگائی کی نئی لہر بھی جنم لے سکتی ہے۔ خاص طور پر توانائی، ٹرانسپورٹ اور صارفین کی روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال میں اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، تاہم ٹیکسوں میں اضافے کی صورت میں یہ شرح مزید بڑھ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ان تجاویز پر تفصیلی مذاکرات جاری ہیں۔

دوسری جانب آئی ایم ایف نے ریٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم کی بھی توثیق کی ہے، جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار کرنے والے دکاندار 25 ہزار روپے مقررہ ٹیکس ادا کریں گے اور انہیں آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔معاشی مبصرین کے مطابق آئندہ وفاقی بجٹ میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف حکومتی ریونیو بلکہ مہنگائی، سرمایہ کاری، قابلِ تجدید توانائی اور آٹو موبائل سیکٹر کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے، جس پر کاروباری برادری اور عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

Back to top button