ٹرمپ کا بڑا یوٹرن! ایران ڈیل آخری مرحلے میں پہنچ کر پھر اٹک گئی

ایران اور امریکا کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری سفارتی رابطے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں ہر بیان، ہر مسودہ اور ہر شرط خطے کے مستقبل کا رخ بدل سکتی ہے۔ بظاہر دونوں ممالک معاہدے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ فیصلے نے ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تیار کیے گئے ابتدائی معاہدے کے مسودے پر اطمینان کا اظہار کرنے کے بجائے اس میں مزید سخت ترامیم شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں ایک مرتبہ پھر نئی رکاوٹیں سامنے آ گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ٹرمپ نے معاہدے کا تفصیلی جائزہ لیا اور امریکی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت دی کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کو مزید واضح اور سخت بنایا جائے۔ خاص طور پر افزودہ یورینیم کے ذخائر، ان کی نگرانی، منتقلی اور ممکنہ تلفی کے طریقہ کار پر واشنگٹن مزید مضبوط ضمانتیں چاہتا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ چند روز قبل خود صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور کئی بنیادی معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری آمدورفت کی بحالی کے حوالے سے بھی مثبت اشارے دیے تھے۔تاہم اب امریکی قیادت کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں موجود بعض نکات بعد میں تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے ان کی زبان اور شرائط کو مزید واضح کیا جانا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترامیم کے ساتھ مسودہ دوبارہ ایرانی حکام کو بھجوا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران بھی مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی معاہدے کی اصل کامیابی عملی اقدامات سے ثابت ہوگی، محض وعدوں اور بیانات سے نہیں۔ تہران پہلے ہی اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کے انتظامی کردار پر واضح ضمانتوں کا مطالبہ کر چکا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت مذاکرات کا سب سے حساس مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکا اس حوالے سے مکمل شفافیت اور سخت نگرانی چاہتا ہے جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور جوہری حقوق پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ یہی اختلافات معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے رابطوں اور پس پردہ سفارت کاری کو کئی مبصرین مذاکرات میں پیش رفت کی ایک اہم وجہ قرار دے رہے ہیں۔

فی الحال صورتحال یہ ہے کہ معاہدہ نہ تو ناکام ہوا ہے اور نہ ہی حتمی شکل اختیار کر سکا ہے۔ دونوں فریق اب بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، لیکن آخری مرحلے میں سامنے آنے والے اختلافات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی کئی حساس معاملات طے ہونا باقی ہیں۔اگر آنے والے دنوں میں ایران امریکی ترامیم کو قبول کر لیتا ہے تو خطے میں ایک بڑے سفارتی بریک تھرو کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور پابندیوں کے معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا تو کشیدگی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔یوں مشرق وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف امن معاہدے کی امید ہے اور دوسری طرف نئی محاذ آرائی کا خطرہ بھی پوری طرح موجود ہے۔

Back to top button