جسٹس منصور اور جسٹس اطہر نے خود کو عمرانڈو ثابت کردیا

سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سیاسی منصف تھے اور کالا گاؤن پہن کر تحریک انصاف کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھا رہے تھے۔ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ عمرانڈو کہلانے والے دونوں ججز آئینی ترامیم کے خلاف استعفے دے کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین پاکستان پر یقین نہیں رکھتے اور صرف اور صرف اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتے تھے۔
سیاسی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ججز کے استعفوں سے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ دونوں اپنی ساکھ کھو چکے تھے اور ایک خاص سیاسی بیانیے سے منسلک عدالتی گروہ کا حصہ بن چکے تھے۔ وزیر اعظم کے سیاسی مشیر سینٹر رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ جسٹس منصور اور جسٹس اطہر اس انصافی ٹولے کے اہم رکن تھے جو کھل کر عمران خان کی حمایت کرتا رہا اور جن کے عدالتی فیصلوں میں بھی تحریک انصاف کے حق میں جھکاؤ واضح طور پر نظر آیا۔
یاد رہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور صدرِ کی جانب سے اس کی توثیق کے فوراً بعد سپریم کورٹ کے دونوں ججز نے استعفے دیے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ دونوں ججز نے ایک منتخب پارلیمنٹ کی جانب سے اپنا بنیادی آئینی حق استعمال کرنے کے خلاف بطور احتجاج استعفے دیے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور اور جسٹس اطہر کے استعفوں کا متن حیران کن ہے کیونکہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کو اپنے مستعفی ہونے کی وجہ بتا رہے ہیں حالانکہ دنیا بھر میں پارلیمانی نظام حکومت میں آئین بھی پارلیمنٹ بناتی ہے اور اس میں ترامیم بھی پارلیمنٹ ہی کرتی ہے، جو کہ اسکا بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے۔ سینیٹر رانا ثنااللہ کے مطابق دونوں ججز کے استعفوں کے متن سے ہمارا مؤقف درست ثابت ہوگیا کہ ان کا ذاتی اور سیاسی ایجنڈا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا جج ہوتے ہوئے ایک مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں تقریریں کرنے والے ججز کی جانب سے آئین کے تقدس کی بات کرنا کسی لطیفے سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جج از خود نوٹس لیکر وزیراعظم کو فارغ کریں کیا وہ منصف کہلانے کے قابل ہو سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جسٹس منصور نے انگریزی اور اردو میں تحریر کیے گئے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ ’’27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، جس نے آئین پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا ہے اور ہماری آئینی جمہوریت کی رُوح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’’اس عہدے سے وابستہ رہنا نہ صرف ایک آئینی دراندازی پر خاموش رضامندی ہوتی بلکہ ایسی عدالت میں بیٹھے رہنے کے مترادف ہوتا جس کی آئینی آواز مکمل طور پر دبا دی گئی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے برعکس، جب سپریم کورٹ کے پاس ترمیم کی آئینی جانچ کا اختیار موجود تھا، 27ویں ترمیم نے یہ اختیار بھی ختم کر دیا ہے۔ ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ عرصہ دراز سے عدالتی معاملات میں تحریک انصاف کے مؤقف کے قریب تر مؤقف رکھتے آئے ہیں اور اب استعفے کے ذریعے ایک بار پھر اپنے سیاسی رجحان کو ظاہر کر دیا ہے۔
دوسری جانب مستعفی ہونے والے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ ’’27ویں آئینی ترمیم کے منظور ہونے سے پہلے میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا جس میں اپنے خدشات ظاہر کیے تھے۔ آج وہ خدشات حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جس آئین کا میں نے دفاع اور پاسداری کا حلف اٹھایا تھا، وہ اب باقی نہیں رہا۔ اب نئے ڈھانچے کی بنیاد اس آئین کی قبر پر رکھی جا رہی ہے۔‘‘
تاہم ناقدین کے مطابق اطہر من اللہ بھی ایک عرصے سے عدالتی حلقوں میں عمران خان کے حامی جج کے طور پر جانے جاتے تھے اور ان کے فیصلوں میں بھی سیاسی جھکاؤ کے تاثر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آج آئین اور جمہوریت کی پاسداری کے دعوے کرنے والے جسٹس اطہر من اللہ مشرف دور میں مارشل لا سرکار کے وزیر قانون بن گئے تھے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دونوں ججز کافی عرصے سے کھڈے لائن لگے ہوئے تھے اور انہیں عمران خان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق جسٹس منصور اور جسٹس اطہر کے استعفے کافی حد تک متوقع تھے کیونکہ انہیں 26ویں ترمیم پر ہی تحفظات تھے اور اب 27ویں ترمیم آنے کے بعد آج نہیں تو کل ان کے استعفے سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔
اسلام آباد بار کونسل کے رکن اور سینیئر وکیل ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد نے بتایا کہ جسٹس اطہر اور جسٹس منصور نے یہ کوشش کی کہ وہ عدلیہ کے اندر ہی پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی آئینی ترامیم کے خلاف آواز اٹھائیں، لیکن جب انہیں اندر سے کوئی حمایت نہیں ملی تو بظاہر انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہو سکتا ہے کہ شاید اب اور استعفے بھی آئیں کیونکہ دو دیگر عمرانڈو ججز، جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک ابھی تک خاموش ہیں۔‘‘
پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین اور سینیئر وکیل عابد ساقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ان دونوں ججز کے پاس استعفوں کے علاوہ شاید کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا، اور انہوں نے اپنی عزت بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، جن چار ججز کے استعفوں کے زیادہ امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے ان میں سے دو کے استعفے تو آ چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی دو ججز مستعفی ہوتے ہیں یا نہیں۔‘‘
سپریم کورٹ میں آئینی کیسز کور کرنے والے سینیئر صحافی حسنات ملک نے بتایا کہ جسٹس اطہر اور جسٹس منصور کو یقین ہو گیا تھا کہ اب وہ سسٹم کے اندر رہتے ہوئے اپنا ’’عمرانی ایجنڈا‘‘ آگے بڑھانے کے قابل نہیں رہے۔ انکا کہنا تھا کہ دونوں ججز سمجھتے تھے کہ ان کے پاس دو راستے ہیں: یا تو وہ بیٹھے رہیں اور اپنے خلاف کاروائی کا انتظار کریں، اور یا پھر استعفے دینے کے بعد کھل کر اپنا من پسند عمرانی ایجنڈا آگے بڑھائیں۔
27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 ججز کی ممکنہ رخصتی کا عندیہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستعفی کے بعد جسٹس منصور اور جسٹس اطہر زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے ہیں کہ وہ بار ایسوسی ایشنز میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقاریر کریں، تاہم بدلے ہوئے حالات میں اب انہیں شاید وہ پلیٹ فارم بھی دستیاب نہ ہو۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان ججز کے استعفوں سے سپریم کورٹ یا عدالتی نظام پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ ادارے افراد سے نہیں بلکہ نظام سے مضبوط ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ججز کی رخصتی سے نہ صرف عدلیہ پر دباؤ کم ہو گا بلکہ سیاسی وابستگیوں سے آزاد ایک نئی عدالتی فضا قائم ہونے کی امید بھی پیدا ہو گئی ہے۔
