افغان طالبان کے بعد القاعدہ بھی ٹی ٹی پی کی سرپرست بن گئی

افغان حکومت کے بعد القاعدہ بھی ٹی ٹی پی کی سرپرست اور سہولتکار بن گئی۔ القاعدہ کے جنگجوؤں نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کی دہشتگردوں کو تربیت اور اسلحہ کی فراہمی شروع کر دی۔ اقوام متحدہ نے افغان سرزمین شدت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے بارے پاکستانی خدشات کی تصدیق کردی اقوامِ متحدہ کی افغانستان سے متعلق تازہ رپورٹ نے نہ صرف ٹی ٹی پی، القاعدہ اور افغان طالبان کے باہمی تعلقات پر سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے بلکہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کو بھی عالمی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ رپورٹ کو پاکستان کے مؤقف کی ایک اہم سفارتی تائید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند نیٹ ورکس علاقائی امن اور دنیا کے دیگر ممالک کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ 13 فروری 2026 کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی برائے مانیٹرنگ کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی کو دنیا بھر کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں طالبان حکام نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان اور بعض دیگر گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر نسبتاً زیادہ آزادی اور سہولت میسر ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا اور علاقائی تناؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں بعض رکن ممالک کے حوالے سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مستحکم کر کے اپنے حملوں کا دائرہ خطے سے باہر تک پھیلا سکتی ہے۔ دستاویز کے مطابق افغانستان میں موجود القاعدہ نہ صرف فعال ہے بلکہ ٹی ٹی پی کو تربیت اور حکمتِ عملی سے متعلق معاونت بھی فراہم کرتی ہے جبکہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑا گیا جدید اسلحہ، جیسے نائٹ وژن ڈیوائسز، تھرمل امیجنگ سسٹمز اور ڈرون ٹیکنالوجی، ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو مزید مہلک بنا رہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستان میں تین ہزار پانچ سو سے زائد حملوں میں ٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کی شکایات سامنے آئیں، جن میں سے دو ہزار ایک سو سے زیادہ حملے جولائی سے دسمبر کے درمیان ہوئے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے اُس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں جس کے تحت اسلام آباد مسلسل یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں اور سہولت کاری حاصل ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا اس رپورٹ کو پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ دستاویز واضح کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا بنیادی ہدف پاکستان ہے اور اس خطرے کی جڑیں افغانستان میں پیوست ہیں، جہاں اسے آزادانہ نقل و حرکت اور وسائل تک رسائی میسر ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے تشویشناک ہے۔دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ افغانستان میں کسی غیر مجاز مسلح گروہ کی موجودگی کے دعوے بے بنیاد ہیں افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی ۔ افغان حکام کا مؤقف ہے کہ وہ کسی ایسی تنظیم کی حمایت نہیں کرتے جو دوسرے ممالک میں حملوں میں ملوث ہو۔
دوسری جانب سینیئر افغان تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی ایسی رپورٹس ہر سال جاری ہوتی ہیں اور ان میں اکثر رپورٹس میں ایک جیسے نکات دہرائے جاتے ہیں۔ ان کے بقول ٹی ٹی پی اب وہ تنظیم نہیں رہی جو بیت اللہ محسود یا حکیم اللہ محسود کے ادوار میں عالمی ایجنڈے کے ساتھ سرگرم تھی،ان کے بقول اب ٹی ٹی پی کی توجہ زیادہ تر پاکستان تک محدود ہے۔ تاہم دیگر تجزیہ کار یوسفزئی کے بیانیے کی تردید کرتے نظر آتے ہیں ان کے مطابق اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس کا طریقہ کار باضابطہ ہوتا ہے اور معلومات مختلف رکن ممالک سے حاصل کی جاتی ہیں، تاہم چونکہ ہر ملک کے اپنے سیاسی مفادات ہوتے ہیں اس لیے ان معلومات پر سوالات بھی اٹھتے رہتے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم سے اس نوعیت کا مؤقف سامنے آنا افغان طالبان کے لیے سفارتی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
نجم سیٹھی نے عمران کے لیے ریلیف کا امکان مسترد کیوں کر دیا؟
سینیئر تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ماضی میں بھی کالعدم شدت پسند تنظیموں کے اہم رہنماؤں کی افغانستان میں موجودگی کے شواہد سامنے آتے رہے ہیں،القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور دیگر ٹی ٹی پی کے کمانڈرز افغانستان میں پائے گئے جبکہ ٹی ٹی پی کے کمانڈر عمر خالد خراسانی بھی افغانستان میں مارے گئے تھے۔‘ جس سے پاکستان کے خدشات کو تقویت ملتی ہے۔ ان کے نزدیک شدت پسند تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش پاکستان کو ہے کیونکہ القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے روابط خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔
