اڈیالہ سے بنی گالہ منتقلی، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی جیت کیسے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ صحت سے متعلق تازہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی جیل سے بنی گالہ منتقلی عمران خان اور مقتدرہ دونوں کی جیت ہو گی۔ اس اقدام سے جہاں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر موجود سیاسی دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ وہیں پی ٹی آئی کے حامیوں کو بھی اطمینان ہوگا کہ عمران خان جیل کی بجائے گھر پر ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی یہ تاثر دیا جا سکے گا کہ عمران خان قید میں نہیں بلکہ عدالتی پابندیوں کی وجہ سے عمران خان کی نقل و حرکت محدود ہے۔ یوں یہ بندوبست بیک وقت عمران خان اور مقتدرہ دونوں کے لیے وقتی سیاسی ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ نے ان کے حامیوں کو اسی طرح بے چین کر دیا ہے جیسے کبھی میاں نواز شریف کے حامی اُس وقت پریشان ہوئے تھے جب ان کی میڈیکل رپورٹس کے بارے میں تشویشناک خبریں سامنے آئی تھیں۔ رؤف کلاسرا کے بقول اُس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے عمران خان حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر میاں نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ رؤف کلاسرا کے مطابق عدالتی وارننگ پر عمران خان حکومت گھبرا گئی اور اس نےبیرونِ ملک علاج کی اجازت کے لیے پانچ ارب روپے کی بینک گارنٹی مانگنا شروع کر دی لیکن عدالت نے پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر پر شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر انہیں چار ہفتوں کے لیے لندن جانے کی اجازت دے دی۔
رؤف کلاسرا کے بقول اس موقع پر عمران خان کو اُس وقت شدید سیاسی دھچکا محسوس ہوا جب نواز شریف خود جہاز کی سیڑھیاں چڑھ کر سوار ہوئے۔ شایدان کی جانب سے توقع کی جا رہی تھی کہ نواز شریف کی صحت اتنی خراب ہے کہ انہیں سٹریچر پر لے جایا جائے گا، رؤف کلاسرا کے مطابق چار دہائیوں کے تجربہ کار سیاستدان نواز شریف کو معلوم تھا کہ اگر وہ سٹریچر پر جہاز میں سوار ہوئے تو ایسی تصاویر مخالفین کے لیے مستقل ہتھیار بن سکتی ہیں۔ اسی لئے انھوں نے پیدل جہاز پر سوار ہونے کا فیصلہ کیا، رؤف کلاسرا کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ بعض حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ نواز شریف، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان حکومت کے پسِ پردہ معاملات طے تھے، لیکن سیاسی بیانیہ برقرار رکھنے کے لیے عمران خان کا حیرانی اور ناراضی کا اظہار ضروری سمجھا گیا۔ رؤف کلاسرا کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت یہ خدشہ بھی موجود تھا کہ اگر جیل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ گیا تو اس کے سیاسی اثرات بہت دور رس ہوں گے۔ اسی لئے عمران خان نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک بھجوانے پر آمادہ ہو گئے۔ بہرحال نواز شریف لندن چلے گئے اور پھر اس وقت تک واپس نہ آئے جب تک ان کے لیے حالات سازگار نہ ہو گئے۔
نجم سیٹھی نے عمران کے لیے ریلیف کا امکان مسترد کیوں کر دیا؟
رؤف کلاسرا کے بقول اب اسی تناظر میں جب سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے وکیل کی عمران خان سے ملاقات کے بعد جمع کرائی گئی رپورٹ سامنے آئی تو اس میں سب سے زیادہ تشویش ان کی بینائی کے حوالے سے ظاہر کی گئی۔ چند روز قبل عمران خان کو پمز منتقل کیے جانے اور بیس منٹ کے ایک طبی عمل کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شاید انہیں بنی گالا منتقل کرنے کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ رؤف کلاسرا کے مطابق اگر عمران خان کو بنی گالا منتقل کر دیا جاتا ہے اور ملاقاتوں پر وہی پابندیاں برقرار رہتی ہیں جو جیل میں ہیں تو ممکن ہے سیاسی درجہ حرارت کسی حد تک کم ہو جائے۔ رؤف کلاسرا کے بقول اس صورت میں عمران خان کے حامی مطمئن ہوں گے کہ وہ گھر پر ہیں، جبکہ عالمی برادری کو یہ تاثر دیا جا سکے گا کہ وہ سزا کے باعث محدود ہیں مگر جیل میں نہیں۔ یوں یہ ایک درمیانی راستہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان یہ کہہ سکیں گے کہ انہوں نے ملک سے باہر جانے کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، اور مقتدرہ کو بھی وقتی سیاسی سکون مل سکتا ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق ایک جانب عمران خان کیلئے وقتی ریلیف کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب پارلیمنٹ میں موجود پی ٹی آئی اراکین عمران خان کے حالیہ فیصلوں سے سخت رنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ پارٹی قیادت کو ان پر مکمل اعتماد نہیں۔ رؤف کلاسرا کے مطابق کئی پی ٹی آئی اراکین عمران خان کے اس سخت بیانیے سے بھی اتفاق نہیں کرتے جو اداروں کے خلاف اپنایا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس پالیسی نے سیاسی مخالفین کو فائدہ پہنچایا اور مفاہمت کے امکانات محدود کیے۔ رؤف کلاسرا کے بقول دوسری طرف پارٹی کے اندرونی اختلافات، سوشل میڈیا کا دباؤ، اور زیرِ سماعت مقدمات نے بھی ارکان کو ذہنی طور پر تھکا دیا ہے۔ کئی ارکان کو سزائیں ہو چکی ہیں، دیگر مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بعض کو پارٹی کے اندر سے ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ روف کلاسرا کے بقول اپوزیشن کی اتحادی سیاست میں بھی اختلافات نمایاں ہیں، خصوصاً اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے مؤقف اور پی ٹی آئی ارکان کے زاویہ نظر میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں جب اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پر خاموشی رہی تو یہ سوال مزید گہرا ہو گیا کہ آیا اندرونی یکجہتی کمزور پڑ رہی ہے۔ یوں عمران خان کی صحت بارے رپورٹ نے صرف انسانی ہمدردی کا پہلو نہیں چھیڑا بلکہ پارٹی کی اندرونی سیاست، اپوزیشن کی صف بندی اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رؤف کلاسرا کے بقول آگے کیا ہوگا، یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ پی ٹی آئی میں سیاسی تھکن بڑھتی جا رہی ہے۔ چاہے وہ کارکن ہوں، ارکانِ اسمبلی یا خود قیادت۔ اسی تھکاوٹ کی وجہ سے اب مزاحمت کی بجائے مفاہمت کی راہ اپنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
