26 نومبر کو ڈی چوک میں عمران کے کس مطالبے کے بعد آپریشن ہوا ؟

راولپنڈی اور اسلام آباد کے فیصلہ ساز حلقوں نے عمران خان اور ان کے قریبی رفقاء کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے کہ پچھلے نومبر میں وفاق میں دھرنے کی کال کے دوران انہیں اڈیالہ جیل سے نکال کر بنی گالہ یا خیبر ہختونخواہ شفٹ کرنے کی کوئی پیشکش کی گئی تھی۔
تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ 26 نومبر کو ڈی چوک پہنچنے کے بعد عمران خان کی مذاکراتی ٹیم نہ یہ مطالبہ کر دیا تھا کہ انہیں جیل سے نکال کر ڈی چوک میں جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے جسکے بعد وہ تحریک انصاف کے مظاہرین کی قیادت کرتے ہوئے خیبر پختون خواہ کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ تاہم فیصلہ سازوں نے اس مطالبے کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مظاہرین کے خلاف فوری ایکشن شروع کیا جس کے نتیجے میں علی امین گنڈا پور اور بشری بی بی سمیت تحریک انصاف کے تمام مرکزی قائدین جوتیاں اٹھا کر فرار ہو گئے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں فیصلہ ساز حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کا اغاز ہونے کے بعد سے اس جھوٹ کو فروغ دے رہی ہے کہ نومبر کے مہینے میں عمران کی رہائی کا فیصلہ ہو گیا تھا لہذا اب دوبارہ اس معاملے پر غور ہونا چاہیے۔ فیصلہ ساز حلقوں کا کہنا ہے کہ نومبر میں تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران نہ تو عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کرنے کی کوئی پیشکش ہوئی تھی اور نہ ہی خیبر پختون خواہ منتقل کرنے کی کوئی بات ہوئی۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان یا علی امین گنڈاپور اس شخص کا نام بتائیں جس نے پی ٹی آئی کی قیادت کو ایسی کوئی پیشکش کی ہو کیونکہ ایسی پیشکش نہ تو جاری مذاکراتی عمل کے دوران کی گئی اور نہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیک چینل مذاکرات میں کبھی کی گئی یے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل نومبر کے دھرنے کے دوران بیک چینل مذاکرات کے دوران تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کو بنی گالا یا خیبرپختونخوا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن حکومت نے اسے سختی سے رد کرتے ہوئے ڈی چوک میں آپریشن شروع کر دیا تھا کیونکہ ریاست شر پسندوں کے ہاتھوں یرغمالی نہیں بن سکتی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گنڈاپور نے تمام مطالبات مسترد ہونے کے بعد یہ تجویز بھی دی تھی کہ عمران کو راولپنڈی جیل سے پشاور سینٹرل جیل شفٹ کر دیا جائے لیکن اس سے بچگانہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔
تاہم، روزنامہ جنگ سے وابستہ سینیئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس حوالے سے علی امین گنڈاپور سے سوال کیا تو اُنہوں نے دوٹوک الفاظ میں اس کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے کبھی ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے نکالنے معاملے میں میرا نام کیوں لیا جا رہا ہے۔‘‘ لیکن شاید علی امین گنڈاپور بھول گئے کہ وہ کئی مرتبہ عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ خود اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کو رہا کروائیں گے۔
حال ہی میں یہ خبر سامنے آئی کہ عمران خان نے کہا کہ انہیں ایک ڈیل کی پیشکش کی گئی تھی جس کے تحت انہیں اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ بنی گالہ منتقل کیا جائے گا تاکہ وہ جیل کا بقیہ وقت گزار سکیں۔ ان کے وکیل فیصل چوہدری نے بھی صحافیوں کو یہ چورن بیچا کہ ’’عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ تاہم، انکا موقف تھا کہ وہہ تب تک کہیں نہیں جائیں گے جب تک بغیر کیسز گرفتار کیے جانے والے انکے پی ٹی آئی کے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔
مریم نواز کے ہاتھ ملانے پر سوشل میڈیا کیمپین: گندی ذہنیت کا اظہار
تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بار بار پوچھے جانے کے باوجود نہ تو عمران اس سوال کا جواب دے رہے ہیں اور نہ ہی ان کی مذاکراتی ٹیم کہ انہیں جیل سے نکالنے کی پیشکش کس شخص نے اور کیوں کی تھی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قانون سب کے لیے ایک جیسا ہے اور عمران خان کی رہائی تبھی ممکن ہے جب انہیں عدالتیں ان کے خلاف دائر مقدمات میں بری کر دیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کے دیگر گرفتار شدہ ساتھیوں کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، بغیر مقدمہ کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا لہذا ان میں سے کسی کی بھی رہائی کا کوئی امکان نہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا یے کہ عمران خان اپنی قید کو غیر قانونی سمجھتے ہیں لہٰذا انکی جانب سے رہائی کی کسی حکومتی پیشکش پر غور کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے عمران خان کو اڈیالہ سے بنی گالہ منتقل کرنے بارے حال ہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ایک اہم رکن نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں کہا تھا کہ اگر عمران 2029ء تک موجودہ نظام کے تسلسل کو قبول کر لیتے ہیں اور اپنی فوج مخالف پر تشدد سیاست آگے نہیں بڑھاتے تو انہیں انکی مرضی کی کوئی پیشکش کی جا سکتی ہے۔
