بینکوں کو فاریکس کمپنیاں کھولنے کی اجازت ڈالر مہنگا ہونے کی بڑی وجہ

وفاقی حکومت کی جانب سے بینکوں کو اپنی فارن ایکسچینج کمپنیاں کھولنے کی اجازت ملنے کے بعد ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے بظاہر ترسیلات زر کو رسمی نظام میں لانے اور "حوالہ و ہنڈی” پر قابو پانے کے لیے کیا گیا اپنا فیصلہ ہی مارکیٹ میں عدم توازن اور غیر رسمی چینلز کو مزید فعال کرنے کا باعث بنتا نظر آ رہا ہے۔عالمی منڈی یا معاشی غیر یقینی صورتحال کی بجائے حکومت کی جانب سے بینکوں کو اپنی فارن ایکسچینج کمپنیاں کھولنے کی اجازت دینے سے ڈالر کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں ماہرین کے مطابق اس اقدام نے جہاں پاکستان میں موجود روایتی ایکسچینج کمپنیوں کو ایک طرف کر دیا ہے وہیں دوسری جانب بینک اب بیک وقت کرنسی ڈیلرز اور پالیسی ساز بن کر سامنے آ گئے ہیں جس نے پاکستانی روپے کا رگڑا نکال دیا ہے۔

خیال رہے کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے یکم جولائی 2025 سے ترسیلات زر کی ترغیبی سکیموں کے خاتمے، اور بینکوں کو یکطرفہ مراعات دینے کے بعد ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کی ہدایت کے بعد کئی بینکوں نے اپنی ایکسچینج کمپنیاں قائم کر لی ہیں، جس پر موجودہ ایکسچینج کمپنیوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ کے مطابق، سٹیٹ بینک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سخت اقدامات کی وجہ سے کچھ عرصے سے ڈالر کا ریٹ مستحکم رہا ہے تاہم اب کچھ ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں کی ملی بھگت سے ڈالر کے ریٹ میں اضافہ ہوا ہے۔‘جو ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کر کے منافع کمارہے ہیں۔

تاہم دوسری جانب کمرشل بینکوں کا موقف ہے کہ تمام ایکسچینج کمپنیاں ایک ہی ضوابط کے تحت کام کرتے ہیں، مگر عملی طور پر بینکوں کو حکومتی پالیسی، ترسیلات کی اسکیموں اور لائسنسنگ میں زیادہ سہولتیں میسر ہیں۔ بینکوں کے پاس وسیع نیٹ ورک، مرکزی بینک تک رسائی، اور شرحِ تبادلہ طے کرنے کی طاقت ہے۔ اس لئے ایکسچینج کمپنیاں اب خود کو اجارہ داری کے شکنجے میں محسوس کر رہی ہیں۔ ایک بینک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ کاروباری مقابلہ ہے، جس میں جو بہتر سہولت دے گا، وہی مارکیٹ لے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب مقابلہ غیر مساوی ہو، تو کیا یہ صرف ’کاروباری حکمت عملی‘ کہلائے گا یا حکومتی ناانصافی؟

یاد رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے یکم جولائی 2025 سے ترسیلات زر سے متعلق تین اہم ترغیبی سکیموں میں تبدیلیوں اور خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ ترسیلات زر کی مارکیٹنگ کے لیے ترغیبی سکیم جس کا اطلاق بینکوں، مائیکروفنانس اداروں اور ایکسچینج کمپنیوں پر ہوتا تھا، یکم جولائی سے ختم کر دی گئی ہے۔ دوسری ایکسچینج کمپنیز انسینٹیو سکیم

Exchange Companies Incentive Scheme

جو خاص طور پر ایکسچینج کمپنیوں کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، اسے بھی بند کر دیا گیا ہے۔ تیسری سکیم جو ترسیلات زر کے خلاف ٹیلی گرافک ٹرانسفر یعنی ٹی ٹی چارجز کی ادائیگی سے متعلق ہے، اس میں بھی چند اہم ترامیم کی گئی ہیں، جن کے مطابق اب اہل ترسیل کی کم از کم رقم 200 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ری بیٹ کی شرح فی ٹرانزیکشن 20 سعودی ریال کر دی گئی ہے۔ اور اس سکیم کو بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں پر یکساں نافذ کیا گیا ہے۔

عمران خان نے 9 مئی کیس میں ضمانت منسوخی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

ڈالر کی قدر میں اضافے کے حوالے سے چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن، ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی افغانستان اور ایران اسمگلنگ جاری ہے۔ بلیک مارکیٹ مافیا خفیہ دفاتر میں زیادہ نرخ دے کر صارفین کو قانونی چینلز سے دور کر رہا ہے۔ ایف بی آر کے ٹیکس اقدامات  نے بھی ذخیرہ اندوزی کو جنم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب صارفین کو بینک یا ایکسچینج کمپنی سے کم  اور بلیک مارکیٹ میں زیادہ نرخ ملے گا تو وہ لامحالہ غیرقانونی ذرائع پر انحصار کرے گا جس سے جہاں پاکستانی روپے پر دباؤ آئے گا وہیں ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ ہو گا۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پالیسی تضادات، ادارہ جاتی جانبداری، ریگولیٹری ابہام اور عوامی اعتماد کے بحران نے مل کر مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ترسیلات زر کی سکیم ختم کی گئی، مگر اس کے متبادل کوئی مؤثر پالیسی نہیں دی گئی۔ جس سے ایکسچینج کمپنیوں کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔ بینکوں کی اجارہ داری کے بعد مارکیٹ کے نرخ اور بلیک مارکیٹ میں کے ریٹ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر اور ترسیلات زر میں کمی اور ڈالر کی قدر میں اضافے نے مہنگائی اور معیشت کی تنزلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔

Back to top button