ایمنسٹی انٹرنیشنل کی پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے نہ صرف پارلیمنٹ کے آئینی ترمیم کے اختیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ ایک ایسی مثال بھی قائم کی ہے جسکی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ دنیا بھر میں منتخب پارلیمنٹ کو ہی آئین سازی اور ترامیم کا آئینی اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اس مسلمہ اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے حال ہی میں منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا ہے۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو دیے گئے تاحیات فوجداری استثنیٰ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس نوعیت کا مکمل اور تاحیات استثنیٰ طاقت کے بے لگام اور من مانے استعمال کی راہ ہموار کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ ایسا استثنیٰ قانون کے تحت مساوات کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے اور اس سے قانون توڑنے والے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق مجروح ہوتا ہے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون میں محدود نوعیت کے استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے، تاہم جنگی جرائم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات میں کسی قسم کے استثنیٰ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایمنیسٹی کے مطابق بین الاقوامی عدالتِ انصاف بھی وضاحت کر چکی ہے کہ استثنیٰ صرف سرکاری کارروائیوں تک محدود ہوتا ہے، جبکہ سنگین بین الاقوامی جرائم کو سرکاری کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایمنیسٹی نے نشاندہی کی ہے کہ 27ویں ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں پر فائز فوجی افسران کو قومی ہیرو قرار دیا گیا ہے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا طریقہ کار وہی رکھا گیا ہے جو صدرِ مملکت کے مواخذے کے لیے آئین کے آرٹیکل 47 میں درج ہے، جس کے لیے جسمانی یا ذہنی نااہلی، آئین کی خلاف ورزی یا سنگین بدعنوانی ثابت ہونے اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی شرط رکھی گئی ہے۔
اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم اور مسلسل حملہ قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ ترمیم پارلیمنٹ میں شدید بحث اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منظور کی گئی۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی کو ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے سٹرکچر میں تبدیلی لانے پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی بالادستی کے خلاف منظم حملوں کی انتہا ہے۔ ایمنیسٹی نے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ اس ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی تمام شقیں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ تنظیم کے مطابق 27ویں ترمیم صدرِ مملکت اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کرتی ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون سے متصادم ہے۔
عالمی تنظیم نے تشویش ظاہر کی کہ 27ویں ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس ترمیم کو سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں سے کسی بامعنی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا، جس کے وسیع اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
ایمنیسٹی نے یاد دلایا کہ جس روز یہ ترمیم قانون بنی، اسی دن سپریم کورٹ کے دو سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے، جبکہ دو روز بعد لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کو مزید کمزور کرتی ہے، جو پہلے ہی 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہو چکی تھی۔ تنظیم نے مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے اس کھلے خط کا ذکر کیا جس میں خفیہ اداروں کی مداخلت، ججوں کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے اور گھروں میں نگرانی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات پر نون لیگی قیادت اختلافات کا شکار
تنظیم نے کہا کہ یہ ترمیم ایسے وقت میں منظور کی گئی جب پارلیمنٹ کی تشکیل متنازع تھی اور اپوزیشن کے متعدد رہنما عدالتی فیصلوں کے باعث نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔
ایمنیسٹی نے پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے متعلق عدالتی فیصلوں، آئینی بینچ کے فیصلے کے نتیجے میں حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت ملنے اور وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سیاسی و آئینی اثرات پر بھی تفصیلی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے انصاف تک رسائی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور آئین کی تشریح کے حوالے سے شدید ابہام پیدا ہو گا۔ ایمنیسٹی کے مطابق نئی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی پابند نہیں ہو گی، جس سے آئینی انتشار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
