دہشت گردی خاتمے کےلیے کہیں بھی آپریشن ہوسکتا ہے : عرفان صدیقی

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہورہا لیکن ضرورت پڑی تو حکومت کہیں بھی دہشت گردی خاتمے کےلیے آپریشن کرسکتی ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور، افغانستان کی طرح خیبرپختونخوا کو بھی دہشت گردوں کا اڈہ اور پناہ گاہ بنانا چاہتے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ دہشت گرد دندناتے پھریں،انسانی جانوں سے کھیلتےرہیں اور ان کے خلاف کوئی آپریشن ہو نہ موثر کارروائی۔
لیگی سینیٹر نے کہا کہ خدانخواستہ کل ہماری مغربی سرحد پر کوئی مہم جوئی ہوجائے تو کیا ہماری مسلح افواج گنڈاپور سے اجازت کا انتظار کرتی رہیں گی۔
عرفان صدیقی کاکہنا تھاکہ عمران خان نے اس وقت کی فوجی قیادت کے ساتھ مل کر جن دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لاکر پاکستان میں بسایا وہ ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب صرف یہ ہےکہ جو لوگ ریاست پہ حملہ آور ہورہے ہیں،جو معصوم زندگیوں سے کھیل رہے ہیں،ان سے آہنی ہاتھوں سے نبٹا جائے گا اور کوئی رعایت نہیں برتی جائےگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہورہا لیکن ضرورت پڑی تو حکومت کہیں بھی دہشت گردی کے خاتمے کےلیے آپریشن کرسکتی ہے۔
عرفان صدیقی نےکہا کہ جعفر ایکسپریس کا اغوا،دہشت گردی کی سنگین واردات تھی،ساری دنیا نے اس کی مذمت کی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےبھی مذمتی بیان جاری کیا۔کسی نے اسے قوم پرستی یا بنیادی حقوق کی جدوجہد کا نام نہیں دیا۔
سب نے اسے دہشت گردی قراردیا لیکن افسوس کی بات ہےکہ ایک جماعت کے رہنما اور اس کے زیر اثر میڈیا نے پروپیگنڈے کا طوفان اٹھادیا۔دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کی اور آپریشن کرنےوالی مسلح افواج کے خلاف نفرت ابھارنے کی کوشش کی۔
لکی مروت تھانے پر حملہ ناکام ، جوابی کارروائی پر دہشت گرد فرار
عرفان صدیقی نے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ ہم دہشت گردوں،ان کے سرپرستوں اور سوشل میڈیا پر انہیں ہیرو بنانےوالوں سے کوئی رو رعایت نہ برتیں اور آہنی ہاتھوں سے نبٹیں۔
