چور اور چوکیدار کے گٹھ جوڑ سے بکرا چوری کی وارداتوں میں اضافہ

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے عید الاضحی سے پہلے ملک بھر مین بکرا چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکی بنیادی وجہ چور اور چوکیدار کا گٹھ جوڑ ہے جس نے قانون کو ایک مذاق بنا دیا ہے، لہازا بکرا چوروں سے نجات کیلئے قوم کو متحد ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن والے صرف بکرا چوروں کے احتساب کیلئے مذاکرات کریں تو ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اپنی تازہ تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ وہ دن گئے جب گھروں سے مرغیاں چوری ہوا کرتی تھیں، اب پاکستان اتنی ترقی کر گیا ہے کہ گھروں کے اندر سے بکرے چوری ہو جاتے ہیں لہازا عوام سخت خوفزدہ ہیں۔ سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ عید قربان کے قریب آتے ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بکرا چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہم نے ایک مذہبی تہوار کو بھی لوٹ مار کا سنہری موقع بنا دیا ہے۔ پاکستان میں اسلام کا وہی حال کر دیا گیا ہے جو جمہوریت کا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ایک طویل سیاسی جدوجہد کے ذریعے یہ ملک اس لئے بنایا تھا کہ یہاں ہمیں آزادی ملے گی اور ہم اپنے اپنے عقیدے اور روایات پر آزادانہ عمل کریں گے۔ افسوس کہ ہم نے اس ملک میں پہلے تو سیاست کو ایک گالی بنایا اور پھر عقیدے کو نفرتیں پھیلانے کے کاروبار میں تبدیل کر دیا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جب پاکستان قائم ہوا تو رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تھا۔ اب جب بھی رمضان آتا ہے تو پاکستان کے مسلمان مہنگائی کی مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ عیدالفطر کے قریب ڈکیتیاں بڑھ جاتی ہیں اور عید قربان کے قریب بکرا چوری کی وارداتیں بڑھ جاتی ہیں۔ گن پوائنٹ پر بکرا چھیننا تو بڑی عام سی بات ہے اب تو بکروں سے بھرے ہوئے ٹرک بھی چھین لئے جاتے ہیں۔ لاہور میں پولیس نے بکرا چوروں کے ایک گینگ کو گرفتار کر کے بہت سے چوری شدہ بکرے برآمد کر لئے۔ بکرا چوروں نے بتایا کہ وہ ایک شہر سے بکرے چوری کر کے دوسرے شہر میں فروخت کر دیتے تھے۔
حامد میر کیتے ییں کہ قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت میں قانون اور ضابطے کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے۔ قربانی کی کھال کی رسید مل جاتی ہے لیکن قربانی کے جانور کی خرید و فروخت میں رسید نہیں ہوتی اور جہاں رسید نہیں ہوتی وہاں ٹیکس کی وصولی بھی نہیں ہوتی۔ قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت کو کسی قانون کے تابع بنا بھی دیا جائے تو بکرا چوری تھوڑی کم ہو جائے گی لیکن لوٹ مار کم نہیں ہو گی۔ قانون کا احترام تو دور کی بات ہمارے دلوں سے خوف خدا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ آپ سوچیں کہ اگر آپ مسلمان ہیں تو کیا آپ گن پوائنٹ پر کسی دوسرے مسلمان سے قربانی کا جانور چھینیں گے؟ کیا اس واردات کے بعد آپ عید قربان کی صبح اپنے اللہ کے سامنے سجدہ کرنے کی ہمت کر سکیں گے؟ شائد آپ یہ سب نہیں کر سکتے لیکن آپ کو تسلیم کرنا ہو گا کہ آپ کے آس پاس ایسے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو صرف بکرا چوری میں نہیں بلکہ ہر طرح کی لوٹ مار میں ملوث ہے اور انہیں اپنے اعمال پر کوئی ندامت نہیں۔ سیاست، جمہوریت، صحافت، عدالت، تجارت اور سرکاری دفاتر سے لیکر کھیل کے میدانوں تک زوال ہی زوال نظر آ رہا ہے۔
حامد میر کیتے ییں کہ ہم مہنگے مہنگے جانور خرید کر انکی قربانی تو کر دیتے ہیں لیکن ایک بہت سستی سی قربانی نہیں کرتے۔ یہ سستی سی قربانی ہمیں ایک مہنگی قربانی سے زیادہ مشکل نظر آتی ہے۔ اس سستی قربانی کا نام ہے انا کی قربانی۔ انا پرستوں کے اس معاشرے میں اسلام اور جمہوریت دونوں خطرے میں ہیں چور اور چوکیدار کے گٹھ جوڑ نے قانون کو ایک مذاق بنا دیا ہے۔ یہاں آئین شکنی کو حب الوطنی کا نام دیکر عدالتوں کے احکامات کو بوٹ کی نوک پر لکھ دیا جاتا ہے۔ جہاں عدالت کےساتھ عداوت کو قومی سلامتی کا تقاضا قرار دیکر ججوں کے بیڈ رومز میں خفیہ کیمرے نصب کر دیئے جائیں وہاں مایوسیوں کا راج قائم ہو جاتا ہے۔ آج کل کہا جا رہا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آئے گا اس لئے سیاسی استحکام کیلئے سیاست دان آپس میں مذاکرات کریں ۔سب جانتے ہیں کہ جن کے پاس طاقت ہے وہ مذاکرات کو ’’مذاق رات‘‘ میں تبدیل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انا پرست سیاست دان مذاکرات کے نام پر ایک دوسرے سے دھوکہ کریں گے۔ تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں آئین و قانون کی بالا دستی قائم کی جائے۔
پنجاب میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر شیخ وقاص اکرم پر مقدمہ درج
حامد میر کہتے ہیں کہ آج آئین و قانون کے ساتھ آج کل وہی ہو رہا ہے جو قربانی کے جانوروں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہماری عدالتیں آئین و قانون کے مطابق ایک فیصلہ دیتی ہیں اور عدالت کے باہر آئین و قانون کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا جاتا ہے۔ آئین و قانون نافذ کرنے والوں اور بکرا چوروں کے کردار میں فرق ختم ہو رہا ہے۔ چوکیدار کو اپنے ساتھ ملا کر وارداتیں ڈالنے والے ان طاقتور بکرا چوروں سے نجات کیلئے قوم کو متحد ہونا ہو گا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔ لہازا مذاکرات بھی تب ہی کا۔یاب ہوں گے جب وہ صرف اور صرف بکرا چوروں کے احتساب کیلئے کئے جائیں گے۔
