کوئٹہ میں کانگو وائرس سےایک اورمریض جاں بحق

 کوئٹہ میں کانگووائرس سے متاثرایک اورمریض جاں بحق ہوگیا جس سے رواں سال بلوچستان میں کانگو سےاموات کی تعداد 9 ہوگئی۔

کوئٹہ سے16 سالہ خان محمدکوکان اورمنہ سےخون آنےکی شکایت پرفاطمہ جناح ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔جہاں وہ جانبرنہ ہوسکے۔

ہسپتال ذرائع نےبتایا کہ بلوچستان میں رواں سال رپورٹ کیسز کی تعداد35 ہوگئی جبکہ9افراداب تک جاں بحق ہوچکے ہیں۔کوئٹہ سےفاطمہ جناح ہسپتال منتقل کےجانےوالےخان محمدکےٹیسٹ کئےگئےتھے۔ٹیسٹ میں کانگووائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ رپورٹ مثبت آنےپرانہیں مزید علاج معالجےکی غرض سے ہسپتال میں ہی رکھا گیا،جو آج صبح انتقال کرگئے۔

یہ وائرس مویشی گائے،بیل،بکری، بکرا،بھینس اوراونٹ، دنبوں اوربھیڑ کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایاجاتا ہے۔چیچڑی کےکاٹنےسےوائرس انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔اس بیماری میں جسم سےخون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

یہ وائرس زیادہ ترافریقہ اورجنوبی امریکا’مشرقی یورپ‘ایشیااورمشرق وسطیٰ میں پایا جاتا ہے۔اسی بنا پر اس بیماری کو افریقی ممالک کی بیماری کہا جاتاہے، یہ وائرس سب سےپہلے1944میں کریمیا میں سامنےآیا،اسی وجہ سےاسکا نام کریمین ہیمرج رکھا گیاتھا۔

کانگووائرس کامریض تیز بخارمیں مبتلاہوجاتاہے۔اسےسردرد،متلی،قے،بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی،منہ میں چھالے،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔

تیز بخارسےجسم میں سفید خلیات کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہےجس سےخون جمنےکی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔متاثرہ مریض کےجسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑےتک متاثر ہوجاتےہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اوریوں مریض موت کےمنہ میں چلا جاتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کوہرممکن احتیاط کرنی چاہیے۔

بلوچستان سےپولیو کاایک اورکیس سامنے آگیا

 کانگو سےمتاثرہ مریض سےہاتھ نہ ملائیں،مریض کی دیکھ بھال کرتےوقت دستانےپہنیں،مریض کی عیادت کےبعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں،لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں،جانورمنڈی میں بچوں کوتفریح کرانےکی غرض سے بھی نہ لےجایا جائے۔

Back to top button