پلاسٹک کے ذرات سے مردوں میں کینسرکی شرح بڑھنےکاخدشہ

ماہرین صحت نے خبردارکیاہے کہ پلاسٹک کے ذرات سے مردوں میں کینسر کی ایک قسم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

پلاسٹک کے ننھے ذرات ہر جگہ موجود ہیں یعنی خوراک، پانی اور ہوا، وہ ہر جگہ موجود ہیں۔

درحقیقت ایک تخمینے کے مطابق ہم ہر ہفتے ایک کریڈٹ کارڈ کے حجم کے برابر ذرات ہضم کر جاتے ہیں، مگر اس سے ہمارے جسم کے اندر کیا ہوتا ہے؟

اس بارے میں ابھی تک ٹھوس طریقے سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔

مگر اب ایک نئی تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ذرات مردوں میں کینسر کی ایک قسم کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مثانے کے کینسر کے شکار ہر 10 میں سے 9 مردوں کی رسولیوں کے نمونوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا گیا۔

درحقیقت تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا کہ پلاسٹک کے ذرات کی تعداد کینسر زدہ رسولیوں میں مثانے کے دیگر ٹشوز کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔

 

Back to top button