اپیکس کمیٹی : 26 نومبر کے احتجاج پر وزیراعظم اور گنڈاپور کے درمیان تلخ کلامی

نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے 26 نومبر کے واقعے کا ذکر کرتےہوئے مظاہرین پر گولی نہ چلانے کی وضاحت کی جس وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزرائے اعلیٰ، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان سمیت دیگر اہم عہدیدار شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق دوران اجلاس وزیر اعظم نے 26 نومبر کے واقعے کا ذکر کرتےہوئے مظاہرین پر گولی نہ چلانے کی وضاحت کی۔

جس پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اعتراض کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان پی ٹی آئی احتجاج کے معاملے پر جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے علی امین گنڈاپور گنڈاپور نےکہا کہ اجلاس میں طےکیا ہے دہشت گردی کا مل کر خاتمہ کریں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نےکہا کہ چھبیس نومبر پر اپنا مؤقف وزیر اعظم کے سامنے رکھا،ہمارے پینتالیس لوگ لاپتا ہیں،خدشہ ہے شہید نہ ہو گئے ہوں۔

سرحد پار سے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، وزیر اعظم

علی امین گنڈاپور نے کہاکہ ایک سیاسی جماعت پر گولیاں برسائی گئیں وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کچھ نہیں ہوا، عمران خان ملک کی خاطر مذاکرات کررہے ہیں‘۔

بعدازاں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نےکہا 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کمیشن بنانے کا مطالبہ ہے،کرم اور افغانستان کےحوالے سے بھی بات ہوئی ہم افغانستان کےحوالے سے قبائلی عمائدین کو ساتھ لےکر جرگہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔

Back to top button