ایپکس کمیٹی اجلاس؛ بیرون ملک سوشل میڈیا پروپیگنڈا عناصر کیخلاف گھیرا تنگ کرنے پر اتفاق

وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کےاجلاس میں بیرون ملک سوشل میڈیا پروپیگنڈا عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے پراتفاق کیا گیا۔

نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا،جس میں وفاقی وزرا ، چاروں وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریز،وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان شریک ہوئے۔علاوہ ازیں اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، انٹیلیجنس ایجنسیوں کے سربراہ، ڈی جی ایف آئی اےبھی شریک تھے۔

ذرائع کےمطابق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نے ملکی مسائل سےنمٹنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور مثبت قومی بیانیے کےفروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس میں عزم استحکام مشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام کو اہم قرار دیا گیا۔

اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے عوام کی جان و مال کی حفاظت اوردہشتگردی سے نمٹنے کے پاک فوج کے عزم کا اعادہ کیا۔ دورانِ اجلاس نیکٹا کو دوبارہ فعال کرنے اور خطرات کی نشاندہی کےمراکز کے قیام پر مشاورت کی گئی جب کہ ملک اورخطے میں دہشتگردی، مذہبی انتہا پسندی، گمراہ کن معلومات کےپھیلاؤ اور دیگر مسائل سے نمٹنے کے متعلقہ اداروں کی حکمت عملی کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔

ایپکس کمیٹی اجلاس میں شرکا نے ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پرتفصیلی گفتگو کی اور دہشت گردی کی لعنت کے خلاف متحد ہونے پر اتفاق کیا گیا۔ فورم نے ہر قسم کی انتہا پسندی کو سختی سےکچلنے پر بھی اتفاق کیا۔

اپیکس کمیٹی : 26 نومبر کے احتجاج پر وزیراعظم اور گنڈاپور کے درمیان تلخ کلامی

 

اجلاس میں غیر ملکیوں بالخصوص چینی باشندوں کے تحفظ کے لیے کیے جانےوالےحفاظتی اقدامات کی رپورٹ پیش گئی اور غیر ملکیوں خصوصاً چینی باشندوں کی سکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

ذرائع کےمطابق اجلاس کے شرکا نے ڈیجیٹل دہشت گردوں سے بھی سختی سے نمٹنے کی رائے دی۔ کمیٹی نے عزم کا اظہار کیا کہ جعلی خبروں اورغلط معلومات کے پھیلاؤ کا تدارک کرنا ہو گا۔ ایپکس کمیٹی کے شرکا نے ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیےیکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم کیا۔

فورم نےعزم کا اظہار کیا کہ مسلح افواج کے جوانوں نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔  ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کےساتھ ساتھ تمام اداروں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو ضروری آلات اور وسائل کی مکمل فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ اسی طرح اداروں کے درمیان زیادہ سےزیادہ ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق فورم نےوفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں کو محفوظ بنانے کےعزم کا بھی اعادہ کیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کسی کو بھی احتجاج کی آڑ میں  انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فیک نیوز اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا کا توڑ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جائے گا۔

اجلاس میں ڈیجیٹل دہشت گردوں  کے ساتھ بھی سختی سے نمٹنےکا فیصلہ کیا گیا اور بیرون ملک سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

دورانِ اجلاس وزیراعظم شہبازشریف نے 26 نومبر کے واقعے  کا ذکر کرتے ہوئے مظاہرین پر گولی نہ چلانے کی وضاخت بھی کی جب کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ 26 نومبر کے واقعےمیں درجنوں کارکن شہید ہوئے۔

Back to top button