کیا پاکستان کے اصل فیصلہ ساز اب خود باری لگانے کا سوچ رہے ہیں ؟

بانی تحریک انصاف کے سابقہ بہنوئی اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ اس ملک کے اصل فیصلہ ساز بھی ’’باری کے بخار‘‘ سے نہیں بچ پائیں گے۔ خاطر جمع رکھیئے، فیصلہ سازوں کا ہر قدم اپنے اسی ہدف کی جانب کی تو بڑھ رہا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ دوسری جانب عمران خان کی مشکلات میں آنے والے دنوں میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہونے والا ہے چاہے وہ احتجاج کی کتنی ہی کالز کیوں نہ دے ڈالیں۔ عمران خان کو نہ تو ان کی تیسری اہلیہ جیل سے نکلوا پائیں، نہ ہی ان کی ہمشیرہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوئیں اور نہ ہی ان کے بیٹے ایسا کر پائیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی پر سانحہ 9 مئی 2023 کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا جو دھبہ لگ چکا ہے وہ تاقیامت نہیں دُھلنے والا۔

حفیظ اللہ خان نیازی روزنامہ جنگ میں اپنے سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ عمران خان کا موقف یہ ہے کہ چونکہ مجھے رینجرز نے گرفتار کیا اس لیے 9 مئی کو میرے چاہنے والوں کا ردِعمل بھی انہی اداروں کیخلاف تھا، تاہم عمران کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ جواز عقل و شعور کے کسی پیمانے پر فٹ نہیں بیٹھتا۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاء الحق کے فوجی ساتھیوں نے 1977 میں اور نواز شریف کو جنرل مشرف کے فوجی ساتھیوں نے 1999 میں بنفس نفیس وزیراعظم ہاؤس سے عملاً گھسیٹ کر نکالا اور گرفتار کیا تھا، لیکن انکے چاہنے والوں نے 9 مئی جیسی کوئی حرکت نہیں کی تھی۔ نصرت بھٹو ، بینظیر بھٹو ، کلثوم نواز اور سپورٹرز نے قدم بہ قدم اپنی اپنی جماعتوں کے ورکرز کی قیادت کی اور احتجاج بھی کیا لیکن مجال ہے کسی نے فوجی تنصیبات کا رُخ کیا ہو ۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ سانحہ 9 مئی جہاں PTI کی اخلاقی ابتری، سیاسی بے سمتی اور حسن دروغ گوئی کو مستحکم کر گیا وہیں اس نے ملکی اداروں، وطنی نظام ،اور آئین و قانون پر عسکری گرفت بھی اتنی تگڑی کر دی ہے کہ آج 25 کروڑ پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتیں سب ایک بند گلی میں ایسے بند ہیں کہ سیاست عمران خان کی مُٹھی میں جبکہ اصل طاقت فوج کے پاس ہے، آج ان دونوں کو اکٹھا کرنے کے سارے راستہ مسدود ہیں اور وطن کا مستقبل مخدوش ہو چکا ہے۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اب تحریک انصاف کے محمود الرشید ، یاسمین راشد ، اعجاز چوہدری ، عمر سرفراز چیمہ ، احمد خان بھچر وغیرہ کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے حفیظ اللہ نیازی کے صاحبزادے حسان نیازی کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نیازی صاحب کہتے ہیں کہ یاسمین راشد سے لے کر عمر چیمہ تک سب لوگوں سے میرا ذاتی تعلق ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ تو 9 مئی کو کسی حملے کی پلاننگ میں ملوث تھا اور نہ ہی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا سوچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سزاؤں کا صرف ایک ہی جواز ہے کہ ’’جب لاٹھی میری ہے تو بھینس تمہاری کیوں ہے‘‘۔

تاہم نیازی مانتے ہیں کہ اس ایک واقعے نے عمران خان کی سیاست کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اب وہ دو برس سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں لیکن 9 مئی کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں کا الزام ان کی جان چھوڑتا دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن انکے مطابق حالیہ سزاؤں سے عوام میں عمران خان کیلئے ہمدردی بڑھی ہے۔ وجہ یہ یے کہ میڈیا میں سزاؤں کی حمایت کرنے والے سزاؤں کا موثر دفاع کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن انکا کہنا ہے کہ یہ بھی درست ہے کہ عمران خان کی اعلان کردہ احتجاجی تحریک نے ایک مرتبہ ہھر بن کھلے مرجھا جانا ہے۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ یقینا ًعمران کی دلچسپی احتجاجی تحریک کی کامیابی سے زیادہ اپنی ذات کو میڈیا میں زیر بحث رکھنے میں ہے، پچھلے تین سال سے عمران خقن کو میڈیا کہ بھرپور مدد حاصل رہی ہے اور ان کی کوریج پر کبھی کوئی پابندی آڑے نہیں آئی۔ اگر عمران کا ایسا ہی موئثر میڈیا کنٹرول برقرار رہا تو اگلے کئی سال کی جیل بھی ان کے وارے میں ہے۔ لیکن اس کو جیل میں رکھنے والے غیر سیاسی ذہنوں کو شاید یہ شعور نہیں کہ اس سے ان کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ سب لوگ ایک بات ذہن نشین کر لیں، نواز شریف اور ان کی جماعت پر 2014 سے 2022 تک جو کچھ بیتی، آج من و عن وہی سب کچھ عمران خان پر بیت رہی ہے ۔ اس لیے میں کیسے مان لوں کہ اصل فیصلہ سازوں کو ’’باری لگانے کا بخار‘‘ نہیں چڑھے گا۔ خاطر جمع رکھیئے، فیصلہ سازوں کا ہر قدم اپنے اسی ہدف کی جانب کی تو بڑھ رہا ہے۔

Back to top button