مصطفی عامر کو مار کر جلانے والا ملزم ارمغان اپنے انجام کے قریب

مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے خلاف مقدمہ صرف ایک شخص یا ایک جرم کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان میں سائبر کرائم، ریاستی اداروں کی محدود صلاحیت، قانونی پیچیدگیوں اور اشرافیہ کی گرفت کا مظہر بھی ہے تاہم اب ایف آئی اے حکام نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملزم ارمغان کے ملازمین کو ان کے کیخلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے حکام مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم ثبوت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے اس حوالے حتمی چالان پر کام تقریباً مکمل کر لیا ہے۔ تاہم عدالت عالیہ میں دائر پٹیشن پر فیصلہ آنے کے بعد یہ چالان رپورٹ ایف آئی اے زونل بورڈ کی منظوری کے بعد عدالت میں جمع کروائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے حکام نے ارمغان کے خلاف کیس کو مضبوط کرنے کیلئے ان ملازمین کو بھی وعدہ معاف گواہ بنانے کے حوالے سے غوروفکر شروع کر دیا ہےجن ملازمین کے ناموں پرا کاؤنٹ کھلوا کر ارمغان نے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کر رکھی ہیں، تاہم اگر ایف آئی اے حکام ان ملازمین کی گواہی کے بغیر ہی کیس میں ٹھوس شواہد شامل کرنے میں کامیاب رہے ان ملازمین کو بھی شریک ملزم ہی قرار دے دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ایف آئی اے کی جانب سے اس کیس پر پیش رفت رپورٹ جمع کروائی گئی تھی جس میں ارمغان کے ساتھ ہی اس کے والد اور دوست کو بھی شریک ملزم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ جبکہ ارمغان کی جانب سے آن لائن دھوکہ دہی سے کمائے گئے کالے دھن سے بنائے گئے اثاثے بشمول لگژری گاڑیاں اور جائیدادوں کا ڈیٹا جمع کر کے انہیں کیس کا فیصلہ آنے تک منجمد کروادیا گیا تھا۔ تا کہ بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم اور اثاثوں کی منتقلی نہ کی جاسکے اور نہ ہی ملکیت تبدیل کی جاسکے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے تا حال مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اس کے ڈیجیٹل والٹ تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری جانب ان تحقیقات میں پہلے شامل تفتیش کئے جانے والے ملزم کے والد کامران قریشی اور افنان کو بھی باقاعدہ ملزمان کی حیثیت سے منی لانڈرنگ کیس میں نامزد نہیں کیا گیا۔ اب ملزم کے ذاتی استعمال میں رہنے والے لیپ ٹاپ کی سکیورٹی توڑنے اور اس میں سے ڈیجیٹل والٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوانے کی منظوری لے لی گئی ہے۔ ساتھ ہی ملزم ارمغان سے جسمانی تفتیش کے لئے ایف آئی اے کو 9 دنوں کی مزید رسائی دے دی گئی ہے۔
اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان نہ صرف پاکستان میں جعلی کال سینٹرز کے ذریعے امریکی شہریوں سے مالی فراڈ کرتا رہا، بلکہ اس نے اس مقصد کیلئے امریکہ میں ایک کمپنی بھی رجسٹرڈ کروا رکھی تھی۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ملزم ارمغان فراڈ سے ماہانہ تقریباً چار لاکھ امریکی ڈالر یعنی 11 کروڑ روپے غیرقانونی طریقوں سے کماتا رہا، جنہیں وہ کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتا اور پاکستان منتقل کر کے مختلف ناموں پر اکاؤنٹس میں رکھتا تھا۔ ان اکاؤنٹس کے ڈیبٹ کارڈز ارمغان خود استعمال کرتا رہا۔ یہ اکاؤنٹس اس کے دو ملازمین رحیم بخش اور عبدالرحیم کے نام پر کھولے گئے تھے، جو اس وقت وعدہ معاف گواہ بننے کے امیدوار بھی ہیں۔ ذرائع کے بقول ارمغان نے اس کالے دھن سے 15 کروڑ روپے مالیت کی گاڑیاں اور دیگر اثاثے بھی بنا رکھے تھے، جنہیں عدالت کی ہدایت پر منجمد کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے ملزم کی رہائش گاہ پر چھاپے مار کر لیپ ٹاپس اور کئی اہم دستاویزات قبضے میں لیں، جن میں ایسے اسکرپٹس اور کال ریکارڈز موجود تھے جو عالمی کمپنیوں کے جعلی نمائندوں کے طور پر استعمال کیے جا رہے تھے۔کال سینٹر کے ملازمین خود کو ان بین الاقوامی اداروں کے نمائندے ظاہر کرتے اور غیرملکی شہریوں سے حساس مالی معلومات حاصل کرتے تھے، جنہیں بعد ازاں ارمغان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق ارمغان کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے اب تک 10 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم شامل ہیں۔ تاہم، ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ابتدائی تفتیش میں نامزد ملزم کا والد کامران قریشی اور افغان دوست "افتان” اب تک حتمی چالان میں شامل نہیں کیے گئے۔ ناقدین کے مطابق پاکستان میں آن لائن جرائم اور مالی بدعنوانی کے تیزی سے بڑھتے واقعات نہ صرف ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ عدالتی اور تحقیقاتی اداروں کی سست روی، اثرورسوخ اور نظام انصاف کے کمزور پہلوؤں کو بھی بے نقاب کر رہے ہیں۔ مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے خلاف سامنے آنے والے نئے انکشافات اس بھیانک تصویر کا واضح عکس ہیں، جہاں قتل، آن لائن فراڈ، اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ملزم نہ صرف بین الاقوامی مالیاتی نظام کو چکمہ دیتا رہا بلکہ آسانی سے پاکستان میں کالے دھن سے بنائے گئے اثاثوں پر عیش بھی کرتا رہا جبکہ لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک انجام سے کوسوں دور دکھائی دیتا ہے۔
جرگوں کے حکم پر غیرت مند مرد کب تک عورت کا قتل کرتے رہیں گے؟
ایف آئی اے کے تحت تحقیقات کا آغاز ہونے کے بعد ملزم ارمغان کی رہائش گاہ پر چلائے جانے والے کال سینٹر میں کی جانے والی کارروائی میں 18 لیپ ٹاپس کے ساتھ مختلف دستاویزات بھی قبضے میں لی گئیں اور ملزم کے ملازمین کو بھی طلب کر کے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی جن کے بیانات کو کیس کا حصہ بنایا گیا۔ اس چھان بین میں مذکورہ کال سینٹر اور لیپ ٹاپس سے دنیا بھر شہریوں کے کاروبار کا ڈیٹار کھنے والی بین الاقوامی کمپنیوں یونائیڈ اسٹیٹ پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آرگنائزیشن اور ورلڈ انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے حوالے سے ایسے اسکرپٹ ملے جو کال سینٹرز کے ملازمین کے ذریعے غیرملکی شہریوں کی معلومات حاصل کرنے اور ان سے فراڈ کرنے کے لئے استعمال کئے جارہے تھے۔ تحقیقات میں مزید معلوم ہوا کہ کال سینٹر کے ملازمین ملزم ارمغان کی ہدایات پر خود کو ان دو امریکی کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کر کے غیر ملکی شہریوں سے ان کے بینک اکاؤنٹس، ان کی کمپنیوں اور کاروبار کے ساتھ ذاتی ڈیٹا کی معلومات حاصل کر لیا کرتے تھے اور ان متاثرین کے بینک کارڈز سے بٹوری گئی رقوم کو ارمغان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا کرتے تھے۔ ارمغان کی جانب سے ڈیجیٹل راڈ اور منی لانڈرنگ کے طریقہ کار کے حوالے سے کی گئی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ارمغان نے اپنے کیریئر کا آغاز 2015ء سے معروف زمانہ ایگزیکٹ سافٹ ویئر ہاؤس ، بعد ازاں ڈی جی ایکس پرائیویٹ لمیٹڈ اور آئی بیکس میں کام کرتے ہوئے کیا۔ اس کے بعد جب اس نے اپنا ذاتی کام کرنے کا سوچا تو اس سے پہلے ہی کی گئی منظم منصوبہ بندی کے تحت اس نے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے ڈبہ کال سینٹر چلانے کی پلانگ کی۔ جس کے تحت اس نے 2018ء میں امریکی شہر میری لینڈ میں آئیڈا کمیونیکیشن ایل ایلس (AIDA) کے نام سے کمپنی رجسٹرڈ کی اور اس کو امریکہ میں ہونے والا کورا بر ظاہر کر کے کراچی
میں اپنے گھر سے چلا تارہا۔
