فوج نے علی امیں گنڈا پور کے خلاف چارج شیٹ کی تیاری شروع کر دی

مستقبل قریب میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بڑی مصیبت میں پھنستے نظر آتے ہیں، خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں میں دہشت گردی کے حالیہ ہولناک واقعات اور ان میں تحریک انصاف کے سرکردہ افراد اور کارکنوں کے مبینہ ملوث ہونے کے بعد مقتدر حلقوں نے گنڈاپور کیخلاف چارج شیٹ مرتب کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ جس کے بعد علی امین گنڈاپور کو مورد الزام ٹھہرا کر ان کی چھٹی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے
فوجی اسٹیبلشمنٹ یوتھیے ججوں کاکیا علاج کرنے والی ہے؟
روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابقخیبرپختونخوا کی صوبائی انتظامیہ اور وزیراعلیٰ کی کارکردگی کے بارےمیں چارج شیٹ کی تیاری شروع کی گئی ہے .اس سلسلے میں تفصیلات آئندہ مہینے کے وسط تک جاری کردی جائیں گی جن میں تادیبی اقدامات کی بھی نشاندہی ہوگی، اس طرح آئین کے تحت کارروائی بھی عمل میں لائی جائیگی۔
وفاقی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالات گزشتہ برسوں میں اس قدر ابتر نہیں ہوئے تھے جو خرابی کی سطح صوبے میں موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد آئی ہے۔صوبے میں نہ صرف امن وامان کا تباہ کن حد تک بریک ڈاؤن ہوا ہے بلکہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مدد کرنے کے مجرمانہ واقعات بھی سامنے آئے ہیں دوسری جانب اطلاعات یکجا کرنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں کرپشن بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے صوبائی وزیر اعلی کے قریبی افراد کے علاوہ ان کے بھائی بھی صوبے کے وسائل کی لوٹ مار اور ملازمتوں سمیت ہر قسم کی سرکاری مراعات کے لئے کھلم کھلا نذرانہ وصول کررہے ہیں۔گورنر فیصل کنڈی نے ان الزامات کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ اعلی حکومتی عہدیداران کرپشن میں ملوث ہیں۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی طرف سے اتوار کو تحریک انصاف کا دہشت گرد تنظیم کے طور پر تعارف کرایا ہے جس سے اس امر کا کھلا اشارہ مل رہاہے کہ حکومت تحریک نصاف کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997 کے تحت کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے جس کی دفعہ 5 کے تحت دہشت گردی اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے افراد اور تنظیموں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے اس صورت میں ذمہ دار افراد اور تنظیموں کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرلی جائیگی اورانہیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا اس کارروائی سے پہلے ایسی تنظیم اور اس کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پچھلے کچھ عرصے سے خیبرپختونخوا میں کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروپس پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں، حکومتی نااہلی کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے 6اضلاع میں حکومت رٹ باقی نہیں رہی، مشکلات اور سیکورٹی خدشات بڑھنے پر سیاسی و فوجی قیادت نے نئے اور بڑے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے، مبصرین کے مطابق افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروپس مضبوط ہوئے ہیں، ماضی کی طرح اب کالعدم ٹی ٹی پی کو امریکی ڈرون حملوں کا خطرہ نہیں رہا، جبکہ افغان طالبان بھی ٹی ٹی پی کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ افغانستان پر طالبان حکومت کے بعد ٹی ٹی پی کے تمام لوگ جیلوں سے باہر نکل آئے ہیں، ٹی ٹی پی کے پاس اب اسلحہ، افرادی قوت اور پیسہ ہے اس لیے پاکستان کیلئے چیلنجز بڑھ گئے ہیں جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بھی انھیں کسی قسم کے چیلنج کا سامنا نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے معاملہ میں کچھ حد تک کردار ادا کیا مگر مسئلہ حل نہیں ہوا، پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی تجویز پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیے جو ناکام ہوگئے، افغان طالبان چاہیں تو حالات میں بہتری آسکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومتی نااہلی کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے چھ اضلاع میں حکومت کی رٹ باقی نہیں رہی ہے، ان علاقوں میں طالبان نے اپنی چیک پوسٹیں قائم کرلی ہیں، تاہم سیاسی صورتحال قومی سلامتی کے ساتھ مکس ہوگئی ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ کی بات کا مطلب سیاسی احساسات کے طور پر لیا جارہا ہے، 2014ء میں اشرف غنی کی حکومت میں بھی افغان سرحد پر ایسی صورتحال نہیں تھی جیسی آج ہے، افغانستان میں لڑنے والے پانچ سے چھ ہزار لوگ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں فعال ہیں۔ تاہم اب لگتا ہے سیکیورٹی اداروں نے آپریشن عزم استحکام دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا قلع قمع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے
