آرمی چیف نےپی ٹی آئی احتجاج سےنمٹنےکیلئےبھرپورتعاون کیا،وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف کاکہنا ہے کہ  آرمی چیف نے لشکر سے نمٹنے کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا۔اسلام آباد میں تحریک انتشار برپا کی گئی، ایک دن میں اسٹاک مارکیٹ نیچے گئی۔

وزیراعظم شہبازشریف کاوفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ ہمیں ملکی ترقی اور خوشحالی کا راستہ اپنانا ہے، ملکی ترقی کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے، معیشت بہتر کرنی ہے یا آئے دن دھرنوں کا سامنا کرنا ہے۔احتجاج کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا رہا، اسلام آباد میں تحریک انتشار برپا کی گئی، صرف ایک دن میں فسادیوں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ نے غوطہ کھایا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 2014 سے پہلےاسلام آباد پرچڑھائی کاتصور نہیں تھا، فسادیوں کوملکی ترقی ہضم نہیں ہورہی، گزشتہ روز فسادیوں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ نیچے گئی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد زخمی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس طرف جانا ہے، دنیا بھر میں سرمایہ کاری وہاں ہوتی ہے جہاں امن ہو۔پی ٹی آئی نے پرتشدد احتجاج کی بنیاد رکھی، شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے موقع پر بھی احتجاج کی کال دی گئی تھی۔ہمیں ملکی ترقی اور خوشحالی کا راستہ اپنانا ہے، ملکی ترقی کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے کہ معیشت بہتر کرنی ہے یا آئے دن دھرنوں کا سامنا کرنا ہے۔

وزیراعظم کا مزید  کہنا تھا ایک طرف دہشت گردی ہو رہی تھی اور جنگ کا ساماں تھا اور ہم یہاں بیٹھ کر ملکی ترقی سے متعلق معاہدوں کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔کہ کل اسلام آباد میں جو فساد برپا کیا گیا، اس سے ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچا، کاروبار بند ہونے سے ملک کو 190 ارب کا نقصان ہوتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں دل کی گہرائی سے وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، پنجاب پولیس رینجرز اور دیگر اداروں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ملک کر تازہ ترین حملے کو ناکام بنایا، ان کی شکست دی اور ان کو دھکیلا۔

شہبازشریف کاکہنا تھا کہ ہ میری یہ بات اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب کہ ہمیں اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھرپور معاونت رہی، جو ہمارے سپہ سالار ہیں، انہوں نے اسلام آباد پر لشکر کشی، یہ بھی اور جو ماضی میں کی گئی تھی اور اس بار خاص طور پر انہوں نے پورا تعاون کیا، پوری مدد کی اور اللہ کے فضل سے اپنے ہی دارالخلافہ کے خلاف یہ جو لشکر کشی تھی، اس نے کل رات دم توڑ دیا۔

Back to top button