پارٹی عہدہ چھوڑنے والے اسد عمر کی PTIسے چھٹی؟

تحریک انصاف میں سیکرٹری جنرل کا عہدہ چھوڑ کرعمران خان کی پالیسیوں سے برات کا اظہار کرنے والے اسد عمر کو تحریک انصاف نے عملا پارٹی ہی سے بے دخل کر دیا ہے حالانکہ اسد عمر کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے پارٹی عہدہ چھوڑا ہے لیکن وہ ابھی تک تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ پی ٹی آئی کی طرف سے اسد عمر کو چھوڑنے کی عملی صورت عمران خان کی 19 مئی کو اسلام آباد کچہری میں پیشی کے وقت بھی دیکھنے میں آئی۔ اسلام آباد کی عدالت میں عمران خان اور اسد عمر کی ایک ساتھ پیشی کے موقع پر جب دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو چیئرمین تحریک انصاف اسد عمر کو نظر انداز کرتے نظر آئے۔ اسد عمر نے عمران خان کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی تاہم عمران خان دعوت ٹھکراتے ہوئے روسٹرم پر جا کر کھڑے ہو گئے جبکہ صحافیوں کی جانب سے آئندہ الیکشن میں اسد عمر کو ٹکٹ دینے کے سوال پر کہا کہ اس کا فیصلہ وقت آنے پر کروں گا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل اسد عمر نے اپنی رہائی اور پارٹی عہدوں سے استعفی دینے کے بعد 19 جون کی رات نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کی جس میں نہ صرف انھوں نے پارٹی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اطہار کیا بلکہ عمران خان کی حکمت عملی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انٹرویو میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ میں 2021 میں ہی فیصلہ کرچکا تھا کہ 2023 کا الیکشن نہیں لڑوں گا، پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتا ہوں سب کو دو قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جو اسٹریٹجی لے کر چل رہے ہیں اس سے اتفاق نہیں کرتا، پی ٹی آئی کسی اور راستے پر نکل پڑی تو سیاست ہی چھوڑ دوں گا، پی ٹی آئی میں مائنس ون ہوگا تو پارٹی ہی نہیں رہے گی۔نو مئی کے واقعات پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو خطرات نظر آئے الارمنگ تھے،9 مئی خطرے کی گھنٹی تھی ہم سب کو دو قدم پیچھے ہٹ کر سوچنا چاہیے، ٹکراؤ کی اسٹریٹجی سے اتفاق نہیں کرتا کئی بار کہہ چکا ہوں، عراق، شام، لیبیا دیکھ لیں وہاں فوجیں کمزور ہوئیں تو ملکوں میں کیسی تباہی آئی۔
اسد عمر کے انٹرویو کے بعد تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اسد عمر کے خیالات میں ابہام اور کنفیوژن واضح ہیں، اسد عمر کو چیئرمین یا جماعت کے فیصلوں سے اختلاف تھا اور وہ ان پر عملدرآمد کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے تو اسی وقت منصب سے الگ ہوتے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسد عمر کے خیال میں تحریک انصاف کو دیگر سیاسی قائدین سے گفتگو کے دروازے بند نہیں کرنے چاہیے،اسد عمر خود یہ مؤقف اپنایا کرتے تھے کہ جب بھی ان جماعتوں سے بات چیت کی کوشش کی جاتی ہے یہ این آر او کے حصول کے علاوہ کسی اور ایجنڈے پر بات نہیں کرتے۔تحریک انصاف کے رد عمل کے بعد اسد عمر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے اور سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔
ایک ٹوئیٹر صارف نے عمران خان کی گرفتاری کے وقت اسد عمر کے ٹوئٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اسد عمر صاحب اگر آپ کو پہلے سے عمران خان کی پالیسی سے اختلاف تھا اور آپ کو تصادم نظر آرہا تھاتو آپ نے 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد تصادم کو روکنے کے لیے کردار ادا کیوں نہیں کیا؟آپ نے احتجاج کو پر امن رکھنے کے لئےکیا کیا؟ آپ کے9 مئی کے ٹوئٹ میں تو ایساکچھ نہیں۔ڈاکٹر مومن نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اسد عمر وہ واحد سیاستدان ہیں جن کے تحریکِ انصاف کا عہدہ چھوڑنے پر مجھے دکھ ہوا۔ آج ان کا انٹرویو سنا تو پہلی دفعہ ان کا مؤقف انتہائی کمزور اور بے وزن لگا۔ بقول اقبال 9 مئی کے بعد ان کے کردار کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا۔۔۔رؤف حسن صاحب نے بخوبی اسد عمر کے انٹرویو کا جواب دیا ہے۔
زہرہ نامی ٹوئٹر صارف نے ٹوئٹر پر اسد عمر کو ان فالو کرتے ہوئے لکھا کہ اسد عمر صاحب آپ نے ہر ایک کو شرمندہ کیا ہے، اب آپ پچھلی سیٹ پر آرام سے بیٹھ جائیں اپنی ذات کو مزید شرمندہ نہ کریں، آپ ختم ہو چکے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل اسد عمر نے 9 مئی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی حالات کے پیش نظر پارٹی عہدوں سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں پارٹی نہیں چھوڑ رہا مگر بطور سیکریٹری جنرل اور رکن کور کمیٹی پی ٹی آئی استعفیٰ دے دیا ہے۔ بعد ازاں اسد عمر نے پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں پرویز خٹک سے
کیا بلاول بھٹو وزیراعظم اور نواز شریف صدر بننے جا رہے ہیں؟
رابطے میں ہیں ان سے بات کر کے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے۔
