کیا بلاول بھٹو وزیراعظم اور نواز شریف صدر بننے جا رہے ہیں؟

الیکشن کے بعد پاکستان میں ایک طاقتور حکومت بنے گی. جن معاشی مسائل میں ہم گھرے دکھائی دے رہے ہیں یہ کہانی بالکل ہی بدل جائے گی، عام لوگوں کو ریلیف کا احساس ہو گا۔ نوازشریف وزیر اعظم بنے تو انرجی اور ٹریڈ روٹ پر تیزی سے کام ہو گا۔ اگر بلاول بھٹو وزیراعظم بنے اور نوازشریف صدر بنتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اٹھارہویں ترمیم میں کچھ بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہوں گی تاہم پیپلزپارٹی شائد ایک وزارت عظمیٰ کے لیے اتنی قربانی دینے کو تیار نہ ہو۔

نیوز ویب سائٹ وی نیوز کے ایک سیاسی تجزئیے میں کہا گیا ہے کہ نااہلی کی مدت 5 سال کرنے کا بل منظور ہو گیا جس کے بعد نواز شریف کے الیکشن لڑنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے آپ میاں شہباز شریف کے کچھ جملے سنیں۔پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، وہ وقت دور نہیں جب نواز شریف چوتھی بار ملک کے وزیراعظم بنیں گے، میں ان کا سپاہی بن کر ملک کی خدمت کروں گا، نواز شریف ملک کی قسمت بدلیں گے۔

شہباز شریف کا انداز دکھ بھرا لگ رہا ہے کہ بھائی جان پھر وزیراعظم بنیں گے، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ ساتھ اپنے سپاہی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وہ حوالدار بشیر سے کہہ رہے ہیں کہ نہ تجھ سے اپنا کچھ ہوا نہ میرا۔ اب بھائی جان ہی ہم دونوں کا کچھ کریں گے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون میں دو سوکنوں والی لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ اس کا پہلا مصرعہ بلاول بھٹو نے سوات جلسے میں ارشاد کر دیا۔

شہباز شریف کو وزیراعظم اور اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنا کر نوازشریف نے آئی ایم ایف اور پاکستانیوں سے بدلے ہی لیے ہیں۔ مطلب شائد یہی تھا کہ میرے بغیر ان دونوں کی کارکردگی کے مزے لو۔ اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف کے مذاکراتی وفد کی آپس میں کبڈی دیکھنی ہی باقی ہے، اور تو ہر طرح سے یہ لڑ کر دکھا چکے ہیں۔ پی پی چیئرمین نے وفاقی بجٹ پر اعتراض کرتے ہوئے سیلاب زدگان اور سندھ کے لیے اضافی فنڈز مانگ لیے ہیں ۔ الیکشن سر پر آ گئے ہیں۔ نوازشریف نے مسلم لیگ نون کی ساری لیڈر شپ کو لندن طلب کر لیا ہے۔ وہاں الیکشن کی تاریخ، پارٹی امیدواروں اور الیکشن بیانیے سمیت ہر ایشو پر فیصلے ہوں گے۔

قومی اسمبلی اپنی مدت ختم ہونے سے کچھ وقت پہلے تحلیل کیے جانے کا امکان ہے کیوں کہ مدت پوری ہونے پر اسمبلی تحلیل کرنے کی صورت میں الیکشن 60 روز میں کرانے لازم ہیں۔ اگر اسمبلی مدت پوری ہونے سے پہلے توڑی جائے تو الیکشن 90 روز میں کروانا ہوتے ہیں۔ ایک مہینے کا یہ اضافی وقت الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہونا لازم ہیں۔ حلقہ بندیوں میں صوبائی حکومتوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ مرضی کے حلقے تحریک انصاف کا کام بڑھا دیں گے۔ کپتان کے مداحوں کو اس کی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے امیدوار حلقہ دیکھے بغیر بس ووٹ دے کر مخالفین کی ضمانتیں ضبط کرانا ہوں گی۔ پاکستان میں ایسا ہوتا ہے کیا؟ ووٹر بڑا سیانا ہے اس کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے۔ وہ بھی جیتنے والے اور اگلی حکومت میں کون آئے گا کا امکان سامنے رکھتے ہوئے ووٹ دیتا ہے۔

سیاسی تجزئیے کے آخر میں دعوی کیا گیا ہے کہ الیکشن کے بعد پاکستان میں ایک طاقتور حکومت بنے گی۔ جن معاشی مسائل میں ہم گھرے دکھائی دے رہے ہیں یہ کہانی بالکل ہی بدل جائے گی۔ میگا پراجیکٹس کا آغاز ہو گا۔ ہم دیکھیں گے کہ ہمارے دوست ملک پاکستان میں سرمایہ کاری منصوبوں کا اعلان کریں گے۔ فاسٹ ٹریک نجکاری ہو گی۔ دو تین لاکھ پاکستانی لیبر کے باہر جانے کی راہ ہموار ہوگی، ایم ایل ون پر کام کا آغاز ہوگا، گوادر کو کراچی اور مین ٹریک سے دو الگ الگ منصوبوں سے جوڑا جائے گا۔ فارن ریزرو کی صورتحال بہت بہتر ہو جائے گی۔ یہ سب ہونے کے ساتھ ایک ’فِیل گڈ‘ کا تاثر ضرور آئے گا اور عام لوگوں کو ریلیف کا احساس ہوگا، مشکلات برقرار رہیں

اداکارہ سنیتا مارشل کی سوشل میڈیا پر دھوم کیوں مچی؟

گی ان کی نوعیت تبدیل ہو جائے گی۔

Back to top button