ایشیائی ترقیاتی بینک کی ریکوڈک منصوبے کیلئے41 کروڑڈالر کی منظوری

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے تانبے اور سونے کے بڑے منصوبے ریکو ڈک کے لیے 410 ملین ڈالر کے فنڈنگ پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق ریکو ڈک دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ معدنی ذخائر میں سے ایک ہے، جسے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ آپریٹ کرے گی۔ فنڈنگ پیکیج میں 300 ملین ڈالر کے دو قرضے اور 110 ملین ڈالر کی مالی ضمانت شامل ہے جو حکومت پاکستان کو فراہم کی جائے گی۔
ریکو ڈک سے 2028 کے بعد تانبا اور سونا نکلنا شروع ہوگا، جس سے تقریباً 70 ارب ڈالر کا فری کیش فلو متوقع ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 6.6 ارب ڈالر ہے جس میں بیرک گولڈ اور حکومت پاکستان (وفاقی و صوبائی) کا مساوی حصہ ہے۔
حکومت کو امید ہے کہ یہ منصوبہ معدنیات کے شعبے میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گا۔ اس حوالے سے امریکا، کینیڈا اور جاپان سمیت کئی بین الاقوامی ادارے دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 2 لاکھ میٹرک ٹن تانبا نکالنے کا ہدف ہے جو بعد ازاں بڑھا کر 4 لاکھ ٹن سالانہ تک کیا جائے گا۔ بیرک گولڈ کے مطابق منصوبے کی متوقع عمر 37 سال سے زائد ہے، جسے نئی دریافتوں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اس منصوبے کے لیے پہلے ہی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن 700 ملین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کر چکی ہے جبکہ مزید سرمایہ کاری کے لیے امریکا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک، کینیڈا کے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ ادارے اور جاپان کے جے بی آئی سی سے بات چیت جاری ہے۔
