آصف زرداری کی صدارت اب یقینی کیوں ہو چکی؟

عام انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے حکومت سازی کیلئے جاری جوڑ توڑ اور شٹل ڈپلومیسی آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور سیاسی جماعتوں نے واضح پو زیشن لے لی۔ جس کے بعد جہاں وفاق میں حکومت کی تشکیل کا منظر نامہ واضح ہوگیا ہے وہیں صوبائی حکومتوں کے قیام کی راہیں بھی کلئیر ہو گئی ہیں۔ بلاول بھٹو کے اعلان سے شہباز شریف کی بطور وزیراعظم کا میابی کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔
تاہم سنجیدہ سیا سی اور مقتدر حلقوں میں بلاول بھٹو کے حکومت میں شامل نہ ہونے کے فیصلے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے کیونکہ اس ملک انتہائی گھمبیر صورتحال سے دو چار ہے تاہم بلاول نے وزارتیں نہ لے کر اور وزارت عظمیٰ کیلئے ن لیگ کو ووٹ دینے کا اعلان کرکے ماسٹر سٹروک کھیلا ہے ، پیپلز پارٹی شہبازکووزارت عظمیٰ کا ووٹ دے گی تو جواب میں ن لیگ بھی زرداری کو صدارت دے گی دیکھنا یہ ہے کہ چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین سینٹ اور سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں پر دو نوں بڑی جماعتوں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں مفاہمت ہو پاتی ہے یا نہیں ۔
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت 6 بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت کے بعد قوی امکان یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف دوبارہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو جائیں گے کیونکہ انہوں نے پی ڈی ایم کی 16ماہ کی مخلوط حکومت کو بہت کامیابی سے چلایا، وہ نہ صرف اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم کیاجو اس سے قبل ن لیگ کھوچکی تھی۔
تاہم دوسری جانب سیاسی حلقوں میں حکومت میں عدم شمولیت کے فیصلے پر سابق صدر آصف زرداری اور بلاول میں اختلافات کی خبریں بھی زیر گردش ہیں۔منگل کی شام پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) کے سربراہوں اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا گیا، جہاں سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کو ملک کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس موقع پر موجود نہیں تھے جسے واضح طور پر محسوس کیا گیا کیونکہ انہوں نے منگل کے روز پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ پیپلز پارٹی صرف مسلم لیگ (ن) کو اپنا وزیر اعظم منتخب کرانے میں مدد کرے گی اور کسی معاملے پر بھی قانون سازی میں ضروری مدد فراہم کرے گی۔ بلاول نے "PDM-2” حکومت کے خیال کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ تاہم سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اتحادیوں کے معاملے پر باپ اور بیٹا ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں یا وہ اچھے پولیس والے اور برے پولیس والے کا کردار ادا کر رہے ہیں؟پی پی پی کے ایک سینئر رہنما سے جب اس معاملے پر پوچھا گیا تو انہوں نے اختلافات کی تردید کی اور بتایا کہ اس سب میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور معاملہ تھوڑا تکنیکی ہے۔ آصف زرداری پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر ہیں اور اتحاد کے اعلان کے لئے ان کی ہی پریس کانفرنس میں موجودگی کافی تھی۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان حکومت سازی کے حوالےسے صورتحال میں تبدیلی کے بعد پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف زرداری کی خواہشیں بھی بدل گئی ہیں۔ پہلے آصف علی زرداری کہتے تھے کہ ان کی خواہش ہے کہ اپنی زندگی میں بلاول بھٹو کو ملک کا وزیراعظم دیکھیں لیکن گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا۔ میری خواہش ہے کہ آصف زرداری ملک کے صدر بنیں۔ انہوں نے کہا کہ میری یہ خواہش اس لئے نہیں ہے کہ وہ میرے والد ہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ملک اس وقت جس آگ میں جل رہا ہے اسے بجھانے کی صلاحیت صرف آصف علی زرداری میں ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ وفاق کا عہدہ سنبھالیں۔ اپنے وزیراعظم بننے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام مجھے مینڈیٹ دیتے تو میں نے وزیراعظم ہی بننا تھا لیکن صرف اپنا سوچتا تو خاموش ہو کر بیٹھ جاتا لیکن میں اب اپنی پارٹی کا
کردار ادا کروں گا ۔
