عاصم منیر بیک وقت 4 فوجی عہدے رکھنے والے پہلے جرنیل

سینیٹ سے پاس ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد جنرل عاصم منیر کے پاس اب نہ صرف آرمی چیف اور فیلڈ مارشل کے عہدے ہیں بلکہ وہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے علاوہ نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے بھی سربراہ ہوں گے۔ یوں اب انکے پاس بہ یک وقت چار فوجی عہدے ہوں گے جس سے وہ بلاشبہ پاکستانی عسکری تاریخ کے طاقتور ترین فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔
سینیٹ سے پاس ہونے والی 27ویں ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات ہوگا، اس کے علاوہ جنرل عاصم منیر کو آئینی استثنیٰ بھی حاصل ہو جائے گا اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکے گی، کیونکہ آرٹیکل 248 کے تحت انہیں وہی تحفظ حاصل ہوگا جو صدر مملکت کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں صرف آرٹیکل 47 کے تحت ہی ہٹایا جا سکے گا، جو کہ صدر مملکت کے مواخذے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی وزیراعظم کو ہٹانا آسان ہوگا اور آرمی چیف کو ہٹانا مشکل ہو گا۔
27ویں ترمیم کے تحت ڈیفنس فورسز کے ڈھانچے میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں انہوں نے ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ کیا اب فضائیہ اور بحریہ بھی چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت ہوں گی یا وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں آزادانہ طور پر کام کرتی رہیں گی۔ بظاہر آئینی ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو تینوں مسلح افواج کا اعلیٰ ترین کمانڈر تسلیم کیا گیا ہے، تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عہدے کا مقصد تینوں افواج کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور دفاعی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی سروس کو دوسری کے ماتحت کرنا۔
عسکری ذرائع کے مطابق ہر سروس چیف بدستور آئین کے آرٹیکل 243 اور اپنے متعلقہ سروس قوانین کے تحت اپنی فورس کی کمان اور آپریشنل امور انجام دینے کے مکمل آئینی اختیارات کے حامل رہیں گے۔ وزارتِ قانون کے ایک اہلکار نے وضاحت کی کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا کردار زیادہ تر مشترکہ دفاعی پالیسی، نیشنل سیکیورٹی پلاننگ اور سول حکومت کو فوجی امور پر بریفنگ دینے تک محدود ہوگا۔
ترمیم کے تحت 27 نومبر کو جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ اس عہدے کو چار دہائیوں تک تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ایک علامتی پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا، تاہم اب یہ ذمہ داری براہ راست چیف آف ڈیفنس فورسز کے پاس ہوگی جو کہ علامتی سربراہ نہیں ہوگا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکا تھا، کیونکہ پچھلے کئی برسوں سے اس پر آرمی کے جرنیل ہی فائز رہے، جب کہ اصولی طور پر یہ عہدہ باری باری تینوں فورسز کے سینیئر افسران کے لیے ہونا چاہیے تھا۔ یاد رہے کہ ایئر فورس سے آخری مرتبہ 1994 میں ایئر چیف مارشل فیروز خان اس عہدے پر فائز ہوئے تھے جس کے بعد سے اس عہدے پر صرف آرمی کے جرنیل ہی فائز ہوتے رہے ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ دینا دیگر افواج کے لیے غیر متوازن صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر نیا عہدہ تخلیق کرنا ہی تھا تو اسے چیئرمین جوائنٹ چیفس کی جگہ پر ایک الگ حیثیت میں قائم کیا جاتا، بجائے اس کے کہ ایک ہی شخص کے پاس دونوں عہدے ہوں۔
لیکن عسکری ذرائع کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کا بنیادی مقصد سول قیادت کو ایک متحد اور مربوط عسکری ایڈوئس فراہم کرنا ہے، جیسا کہ دنیا کے دیگر کئی ممالک میں ہوتا ہے۔ ان کے بقول نئی ترمیم سے کسی بھی سروس کے قانونی ڈھانچے یا خودمختاری میں کمی نہیں آئے گی۔ انکا دعوی ہے کہ پاک بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان بدستور اپنے اپنے دائرہ کار میں آزادانہ طور پر کام کرتے رہیں گے اور براہِ راست صدر اور وزیراعظم کو مشورہ دیتے رہیں گے۔ فوجی ذرائع کا اصرار ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تینوں افواج کے درمیان مشترکہ منصوبہ بندی اور سٹریٹیجک فیصلوں میں ربط پیدا کرے گا۔ ان کے مطابق تینوں سروسز بدستور اپنے اپنے ایکٹ یعنی آرمی ایکٹ، ایئر فورس ایکٹ اور نیوی ایکٹ کے تحت کام کرتی رہیں گی۔
تاہم پاکستان بحریہ کے سابق افسر کموڈور ارشد خان نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف کا عہدہ ایک ہی شخص کے پاس ہوا تو باقی دونوں فورسز میں یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ انہیں آرمی کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ انکے مطابق اس تاثر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری آرمی چیف سے الگ طور پر کی جائے۔ کموڈور ارشد خان
کے مطابق جدید جنگوں میں تینوں فورسز کا باہمی تعاون ناگزیر ہے، تاہم فضائیہ اب جدید وارفیئر میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے فیصلہ سازی میں تینوں مسلح افواج کی برابر شراکت ضروری ہے۔
یاد رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے نام سے ایک نئی کمانڈ بھی قائم کی جائے گی، جس کے سربراہ چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔ یہ کمانڈ پاکستانی نیوکلیئر پروگرام، میزائل سسٹمز اور سٹریٹیجک اثاثوں کی نگرانی کرے گی۔ تاہم وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ فیلڈ مارشل کا عہدہ دراصل ایک اعزازی ٹائٹل ہے، ملازمت نہیں۔ آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت حسبِ سابق پانچ سال ہوگی، تاہم فیلڈ مارشل کا اعزاز تاحیات رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ جیسے اعزازی القاب قومی ہیروز کو دیے جاتے ہیں اور پاکستان میں بھی یہی روایت اپنائی جا رہی ہے۔
آئینی ترمیم سے پارلیمنٹ کی بجائے فوج کیسے سپریم ہو جائے گی؟
اگرچہ حکومت اس فیصلے کو ادارہ جاتی ہم آہنگی اور دفاعی نظم کو بہتر بنانے کی کوشش قرار دے رہی ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا ایک شخص کے پاس تینوں طاقتور عہدے ہونے سے طاقت کا توازن بگڑ نہیں جائے گا۔ مبصرین کے خیال میں جنرل عاصم منیر پاکستانی تاریخ کے سب سے بااختیار اور طاقتور فوجی سربراہ بن چکے ہیں جنہیں جس سے آئینی استثنی بھی حاصل ہے۔
