آئینی ترمیم سے پارلیمنٹ کی بجائے فوج کیسے سپریم ہو جائے گی؟

آئینِ میں 27ویں ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا آئینی عہدہ تخلیق کرنے اور اسے تینوں مسلح افواج یعنی آرمی، نیوی، اور ایئر فورس کا بااختیار سربراہ بنانے کو ایک ایسا متنازعہ فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کی بجائے فوج سپریم ہو جائے گی۔ اس فیصلے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے ایک سویلین حکومت اپنے ہاتھوں سے خود کو کمزور کرنے اور فوج کو مزید طاقتور بنانے جا رہی ہے۔
مجوزہ ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 243 میں چند بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں جن کے نتیجے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا فنکشنل عہدہ قائم کیا جائے گا، جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا علامتی عہدہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس ترمیم کے بعد پاکستان میں صرف ایک ہی عسکری سربراہ ہو گا، جو بیک وقت آرمی، نیوی، اور ایئر فورس کا کمانڈر ہوگا۔ یہ قدم بظاہر تینوں مسلح افواج کے مابین “دفاعی ہم آہنگی” پیدا کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، مگر ناقدین اسے عسکری مرکزیت اور آئینی سطح پر فوجی بالادستی میں اضافے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس ترمیم سے سویلین اتھارٹی اور بھی کمزور ہو جائے گی۔ مبصرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اب جنگ یا ہنگامی صورتِ حال میں ایئر فورس اور نیوی سے متعلق فیصلے بھی آرمی چیف کرے گا، جو کہ ان کی فیلڈ نہیں ہے، یوں فرد واحد کو حتمی فیصلہ ساز کی حیثیت دینا پیچیدگیاں پیدا کر سکتا یے۔
مجوزہ آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد 27 نومبر 2025 کو جب موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ساحر شمشاد مرزا ریٹائر ہوں گے، تو ان کا عہدہ تحلیل کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد آرمی چیف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر خود بخود چیف آف ڈیفنس فورسز بن جائیں گے، جس کے تحت تینوں افواج ان کے ماتحت ہوں گی۔
یاد رہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس کا دفتر 1973 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ تینوں افواج کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رہے۔ تاہم گزشتہ چار دہائیوں میں یہ کردار زیادہ تر علامتی ہی رہا، کیونکہ آرمی نے ہمیشہ کوشش کی کہ یہ عہدہ نیوی یا ایئر فورس کو نہ دیا جائے، اور اس پر مسلسل آرمی کا غلبہ قائم رہا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے کی تخلیق صرف پہلا قدم ہو گا کیونکہ اگلے مرحلے میں آرمی ایکٹ اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے قوانین میں تبدیلیاں متوقع ہیں، تاکہ تینوں افواج کی سٹریٹیجک فورسز کو ایک متحدہ کمانڈ میں ضم کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے بقول، اگلا قدم “مرکزیت پسندی” سے “آمریت پسندی” کی طرف بھی جا سکتا ہے، جو پاکستان کے سیاسی و آئینی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس مجوزہ آئینی ترمیم کے ناقد یاد دلاتے ہیں کہ پاکستانی آئین ماضی میں بھی بارہا سویلین اور فوجی حکمرانوں کی باہمی کشمکش کے باعث ترامیم کا شکار ہو چکا ہے، اب ایک ایسی ترمیم لائی جا رہی ہے جو فوج کو آئینی طور پر طاقتور ترین ادارہ بنانے جا رہی ہے حالانکہ پاکستانی آئین تو سویلین سپریمیسی کی بات کرتا ہے اور پارلیمنٹ کو سپریم قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق اگر چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ صرف انتظامی نوعیت کا ہوتا تو فائدہ مند ثابت ہو سکتا تھا، مگر جب اسے آئین کا حصہ بنا دیا جائے گا، تو یہ ایک مستقل سیاسی حقیقت بن جائے گا جسے کوئی بھی حکومت آسانی سے ختم نہیں کر سکے گی۔
ویسے بھی پاکستانی سیاسی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب ایک بار فوجی طاقت کو آئینی تحفظ مل جائے، تو وہ شاذ و نادر ہی اسے واپس کرتی ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم بظاہر اصلاحات کے نام پر آرٹیکل 243 کو ایک چارٹر آف ملٹری سپرمیسی میں بدلنے کی راہ ہموار کر دے گی۔
لیکن انکے مطابق اس ترمیم کے نفاذ میں کئی عملی رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں، خاص طور پر تینوں افواج کے درمیان روایتی رقابت سب سے بڑا مسئلہ ہو گی۔ ایئر فورس کے سربراہ کو جنگ کی صورت میں چند لمحوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس آرمی چیف سوچ سمجھ کر اور صلاح مشورے سے فیصلہ کرتا ہے۔ انہی تضادات کے باعث ماضی میں بھی تینوں مسلح افواج کی “جوائنٹ کمانڈ” کے قیام کی ہر کوشش ناکام ہوئی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، چیئرمین جوائنٹ چیفس کے خاتمے کے بعد یہ واضح نہیں کہ کیا جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بھی ختم کر دی جائے گی؟ اگر ایسا ہوا تو پھر سوال یہ ہے کہ تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطے کا نیا فورم کون سا ہو گا؟ ان کے مطابق، اگر ایئر فورس اور نیوی میں تقرریوں اور ترقیوں کا اختیار ایک آرمی پس منظر رکھنے والے چیف آف ڈیفنس فورسز کے پاس گیا، تو یہ احساسِ محرومی اور ادارہ جاتی بےچینی کو جنم دے سکتا ہے۔ آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ “اگر کبھی ایئر فورس کا مارشل یا نیوی کا ایڈمرل آف دی فلیٹ، فور سٹار جنرل کے ماتحت ہوا تو یہ نظام غیر منطقی اور غیر مؤثر ثابت ہو گا۔”
سابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یاسین ملک نے مجوزہ آئینی ترمیم کو “ادارہ جاتی قبضے” کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق “ایک فوجی افسر کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنا کر اسے ایئر فورس اور نیوی پر بھی حکمرانی کا اختیار دینا ادارہ جاتی توازن کے لیے خطرناک ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم “کسی مخصوص شخصیت” کو فائدہ پہنچانے کے لیے لائی جا رہی ہے، نہ کہ دفاعی ادارے کو مضبوط بنانے کے لیے۔ اس کے علاوہ مجوزہ ترمیم میں کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے نام سے ایک نیا عہدہ بھی تخلیق کیا جا رہا ہے، جو کہ جوہری اثاثوں اور میزائل فورسز کا نگران ہوگا۔ اس عہدے پر تقرری وزیرِ اعظم کریں گے، لیکن آرمی چیف کی سفارش پر کریں گے۔ اس عہدے پر جس شخص کی تقرری ہوگی اس کا تعلق مسلح افواج سے ہوگا۔
آئینی ترامیم سے کون کون سا عہدیدار استثنی لینے والا ہے؟
ناقدین کے مطابق یہ آئینی تبدیلی جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کو ایک ہی سروس کے ہاتھ میں مرکوز کر دیتی ہے، جس سے کمانڈ اینڈ کنٹرول میں تاخیر، غلط فیصلے، اور جنگی حالات میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ خدشہ 2019 کے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اُس اجلاس کی یاد بھی دلاتا ہے جب بالاکوٹ حملوں کے بعد اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے احتیاط کا مشورہ دیا تھا، مگر ایئر چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس نے اختلاف کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ نئی ترمیم کے بعد جب تینوں افواج کی فیصلہ سازی کا اختیار ایک ہی شخص کے ہاتھ میں آ جائے گا تو کیا ایسے اختلاف کی گنجائش باقی رہے گی؟
نئی ترمیم کے مسودے میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ فائیو اسٹار فوجی افسران مثلاً فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کو تاحیات عہدہ، مراعات اور آئینی استثنیٰ حاصل ہوگا۔
انہیں صرف آرٹیکل 47 کے تحت مواخذے کے ذریعے ہٹایا جا سکے گا، اور آرٹیکل 248 کے مطابق وہی آئینی تحفظ حاصل ہوگا جو صدرِ مملکت کو حاصل ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ شق دراصل جنرل عاصم منیر کو رواں سال بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعے کے بعد دی گئی فیلڈ مارشل کی ترقی کو آئینی جواز فراہم کرنے کے لیے شامل کی گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق، یہ ترمیم ایک منتخب فوجی عہدے کو مستقل قانونی ڈھال فراہم کرتی ہے، جو قانون کے دائرے سے بالاتر ایک متوازی اختیار بن سکتا ہے۔
