ٹرمپ کا روس اور یوکرین میں 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان

روس اور یوکرین کے مابین تین روزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان 9، 10 اور 11 مئی تک جنگ بندی نافذ رہے گی۔ ان کے مطابق اس دوران تمام فوجی کارروائیاں معطل رہیں گی۔دونوں ممالک ایک، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں مزید کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے مابین جنگ بندی ان کی براہِ راست کوششوں کا نتیجہ ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے ان کی درخواست پر اتفاق کیا۔ ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس میں یومِ فتح کی تقریبات جاری ہیں، تاہم یوکرین نے بھی دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی کے دوران دونوں ممالک ایک ہزار، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ کریں گے، جبکہ اس بڑے تنازع کے مستقل حل کیلئے مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ یہ عارضی جنگ بندی ایک طویل اور خونریز جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ فریقین تنازع کے حل کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد جنگ میں ہزاروں شہری اور فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ عالمی رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد یوکرینی شہریوں کی ہے۔
دوسری جانب ولادیمیر پیوٹن نے نازی جرمنی کے خلاف سوویت فتح کو اپنی حکمرانی کا اہم بیانیہ بنایا ہوا ہے اور ہر سال 9 مئی کو ماسکو میں فوجی پریڈ منعقد کی جاتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بار تقریب میں غیرملکی مہمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی جبکہ فوجی ساز و سامان کی نمائش محدود رکھی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل روس نے یومِ فتح کی تقریبات کے موقع پر یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم یوکرین نے اسے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ماسکو پہلے بھی ان کی جنگ بندی کی تجاویز کو نظر انداز کرتا رہا ہے۔
