حقانیہ پر حملہ : افغان طالبان کی حامی شخصیات ہی ٹارگٹ کیوں؟

افغانستان میں طالبان قیادت کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھنے والے پاکستان کے اہم ترین مدرسے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہونے والے خودکش حملے میں مولانا عبدالحق حقانی کی موت نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کی حمایت کرنے ولی شخصیات کو ایک منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لہٰذا تحقیقاتی اداروں نے اپنی تفتیش کا دائرہ تحریک طالبان پاکستان سے بڑھاتے ہوئے افغان طالبان مخالف تنظیم داعش پر بھی فوکس کر لیا ہے۔
28 فروری کو خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں جی ٹی روڈ پر واقع اس مدرسے میں نماز جمعہ کے دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا جس سے مدرسے کے نائب مہتمم اور جمعیت علمائے اسلام (سمیع گروپ) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ مولانا حامد دارالعلوم حقانیہ کے سابق مہتمم مولانا سمیع الحق کے بڑے بیٹے تھے۔ مولانا سمیع کو بھی 2018 میں راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مولانا کی موت کے بعد ان کے بیٹے حامد الحق کو جماعت کا سربراہ اور مدرسے کا نائب مہتمم بنایا گیا تھا جب کہ مدرسے کے مہتمم کی ذمے داری مولانا سمیع کے چھوٹے بھائی مولانا انوار الحق کو دی گئی جو دیو بندی مسلک کے مدارس کی نمائندہ تنظیم ‘وفاق المدارس العربیہ پاکستان’ کے سینئر نائب صدر بھی ہیں۔
تاحال کسی بھی گروپ نے مدرسے پر حملے کی باقاعدہ ذمے داری قبول نہیں کی۔ سیکیورٹی ذرائع نے یہ تائثر دینے کی کوشش کی تھی کہ مولانا کو تحریک طالبان نے نشانہ بنایا ہے، تاہم شدت پسندی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق یہ حملہ افغان طالبان سے ہمدردی رکھنے والی پاکستانی شخصیات کو نشانہ بنانے کی کڑی ہو سکتی ہے۔
پولیس حکام کو بھی شبہ ہے کہ یہ حملہ دولتِ اسلامیہ یا داعش کی افغانستان اور پاکستان کے لیے قائم شاخ داعش خراساں کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ گروپ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں افغان طالبان رہنماؤں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اب پاکستان میں بھی اُن کے حامی ہدف بن رہے ہیں۔
اسلام آباد میں قائم شدت پسندی کے موضوعات پر تحقیق کرنے والے ادارے "دی خراسان ڈائری” کے تجزیہ کار افتخار فردوس کہتے ہیں کہ داعش خراساں نے ماضی میں نہ صرف دارالعلوم حقانیہ کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں بلکہ اس کے خلاف ایک کتاب بھی شائع کی تھی جس میں طالبان قیادت سے اس کی وابستگی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ افتحار فردوس کا کہنا تھا کہ "پاکستانی حکام نے مدرسے کے سربراہ مولانا حامد الحق کو ممکنہ حملے کے خدشات سے بھی آگاہ کیا تھا۔”
افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے ایک بیان میں دارالعلوم حقانیہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے داعش خراساں پر الزام عائد کیا ہے۔ خیال رہے کہ داعش خراساں کی جانب سے گزشتہ چند برسوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے کی ذمے داری قبول کی جاتی رہی ہے۔ جولائی 2023 میں باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جلسے میں خود کش حملہ ہوا تھا جس میں 60 افراد مارے گئے تھے۔
15 فروری 1025 کو ڈیرہ اسمعیل خان پولیس کی جانب سے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی ایک خط لکھا گیا تھا جس میں اُنہیں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ کچھ عسکریت پسند تنظیمیں اُنہیں نشانہ بنانا چاہتی ہیں۔
حقانیہ مدرسے کے نائب مہتم اور مولانا سمیع کے چھوٹے بیٹے مولانا راشد الحق نے کچھ عرصہ قبل دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے مدرسے میں تدریس کی زبان پشتو ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ افغانستان کے طلبہ میں بھی یہ مدرسہ کافی مقبول ہے۔ اس وجہ سے ایک بڑی تعداد میں افغان طلبہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس مدرسے کا رُخ کرتے ہیں۔ دارالعلوم حقانیہ کو افغانستان کے حکمراں طالبان کی ‘نرسری’ سمجھا جاتا ہے۔ بنیادی وجہ یہ یے کہ اسکے فارغ التحصیل طلبہ میں طالبان حکومت کی درجنوں اہم شخصیات شامل ہیں جن میں وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی وزرا، صوبوں اور اضلاع کے گورنر اور طالبان کے عسکری کمانڈر بھی اس مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ میں شامل ہیں۔
اس مدرسے سے فارغ التحصیل طلبہ اپنی درس گاہ سے عقیدت کی بنا پراپنے نام کے ساتھ ‘حقانی’ کا لاحقہ بھی لگاتے ہیں جن میں طالبان قیادت کے اہم رہنما شامل ہیں۔ افغان طالبان کے اہم ستون حقانی نیٹ ورک کا نام بھی اسی مدرسے سے تعلیمی نسبت کی بنیاد پر رکھا گیا۔ حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی افغانستان کے موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے والد تھے۔ جلال دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کئی برس تک تدریس سے وابستہ رہے، بعد میں ان کے کئی شاگرد اہم جنگجو کمانڈر بنے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ 1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد ان مدارس کے طلبہ کو ‘افغان جہاد’ کے لیے بطور رضا کار بھرتی کیا گیا اور ان کی مالی امداد کی گئی۔ درارلعلوم حقانیہ ان اداروں میں نمایاں تھا جو اس مہم میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔
امریکہ کی مالی مدد اور پاکستانی فوج کی حمایت کے ساتھ جلال الدین حقانی، مولوی یونس خالص اور مولانا محمد نبی محمدی نے سوویت افواج کے خلاف مجاہدین کی بغاوت کا آغاز کیا۔ یہ تینوں مدرسہ حقانیہ کے طالبِ علم تھے۔
بعدازاں 1996 میں جب افغانستان پر طالبان پہلی مرتبہ قابض ہوئے تو ان کی حکومت میں مدرسہ حقانیہ کے فارغ التحصیل افغان طلبہ نے مختلف عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ 2001 میں نائن الیون کے سانحے کے بعد جب امریکی قیادت میں نیٹو افواج نے القاعدہ کے شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزام میں طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تو دارالعلوم حقانیہ اور اس جیسے دیگر مدارس پر عالمی توجہ ایک بار پھر مرکوز ہو گئی۔
مولانا سمیع الحق افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے خلاف پاکستان کی سطح پر بننے والے ‘دفاع افغانستان کونسل’ نامی مذہبی جماعتوں کے ایک اتحاد کے سربراہ بھی رہے جو بعد میں ‘دفاع پاکستان کونسل’ بنی۔ افغانستان میں مختلف ادوار میں شورش میں درالعلوم حقانیہ پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ طالبان اور دیگر مجاہدین گروہوں کی نظریاتی اور افرادی قوت کا ذریعہ رہے ہیں۔ البتہ افغانستان میں جہادی گروپوں کا مطالعہ کرنے والے بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ مضبوط روابط کے حوالے سے مدرسہ حقانیہ کے کردار کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ کراچی میں مقیم ایک مدرسے کے اُستاد مولانا یوسف علی نوے کی دہائی میں افغان طالبان کے ہمراہ مسلح جہدوجہد میں شامل رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دارالعلوم حقانیہ کی نسبت کراچی کے کچھ مدارس، خصوصاً جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور جامعہ الرشید کے اساتذہ طالبان قیادت سے زیادہ گہرے روابط رکھتے تھے۔
اُن کے بقول 2005 میں پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں چند پاکستانی مدارس کے اُساتذہ اور طلبہ کے ملوث ہونے کے بعد ان مدارس نے جہادی گروپس سے دُوری اختیار کرنا شروع کی۔
عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ میں ‘بابائے طالبان’ کے لقب سے مشہور مولانا سمیع الحق نے بھی افغان طالبان پر لکھی ایک کتاب میں واضح کیا تھا کہ ان کے مدرسے کے طالبان کے ساتھ کوئی خفیہ یا خصوصی تعلقات نہیں تھے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ "ہمارا تعلق صرف ایک روحانی اور استاد و شاگرد کے رشتے پر مبنی ہے جو ایک فطری امر ہے۔ یہ تعلق ویسا ہی ہے جیسے ہارورڈ یا آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کا اپنے اساتذہ سے ہوتا ہے۔”
پاکستان کو کس ڈرٹی گیم کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ؟
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ بابائے طالبان کہلانے والے مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق کو کس نے اور کیوں قتل کروایا۔ حامد ایسی چند پاکستانی مذہبی شخصیات میں شامل تھے جو پاکستان اور عالمی برادری سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ کابل میں طالبان حکومت کو تسلیم کیا جائے۔ گزشتہ برس انہوں نے پاکستانی مذہبی رہنماؤں کے ایک وفد کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا تھا، جہاں ان کی ملاقات طالبان حکومت کے اہم رہنماؤں سے ہوئی جن میں نائب وزیرِ اعظم مولوی عبد الکبیر اور وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی قابلِ ذکر ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد کالعدم تحریکِ طالبان کے معاملے پر افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ دارالعلوم حقانیہ پر حملے نے پاکستان میں طالبان کے اتحادی یا قریب سمجھے جانے والے افراد اور اداروں کے لیے سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ ایک سیکیورٹی اہلکار کے مطابق اگر داعش خراساں واقعی طالبان کے حامی رہنماؤں کے خلاف ایک منظم مہم چلا رہی ہے تو یہ پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ ان کے بقول "ان حملوں کے اثرات پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف محسوس کیے جائیں گے۔”
