بجٹ کے بعد پاکستان میں کون کون سے گاڑیاں مہنگی ہونے والی ہیں؟

حکومت نے بجٹ میں آٹو انڈسٹری کے حوالے سے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور ٹیکسز میں اضافے کی تجویز دی ہے۔جس سے جہاں مقامی اور درآمدی گاڑیاں مزید مہنگی ہو جائیں گی وہیں دوسری جانب آٹو انڈسٹری کے سٹیک ہولڈرز کے مطابق حکومتی اقدامات سے پاکستان کی کارسازی کی صنعت تباہ ہو جائے گی۔ بلکہ ان سے حکومت ٹیکس بھی اکٹھا نہیں کر پائے گی۔

خیال رہے کہ بجٹ میں ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے بعد ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر بھی ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز ادا کرنا ہوں گی۔

پچاس ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان پر 50 فیصد ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت نے گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس انجن کپیسٹی کے بجائے گاڑی کی قیمت کی بنیاد پر لینےکا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتیں بڑھیں گی۔

بجٹ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کے قانون کے تحت 2000 سی سی تک کی گاڑیوں کی خریداری اور رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی انجن کپیسٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو چکا ہے اس لیے یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ تمام گاڑیوں کے لیے ٹیکس وصولی انجن کپیسٹی کے بجائے ان کی قیمت کے تناسب سے کی جائے۔

حکومتی اعلانات بارے گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں شعیب احمد کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے آٹو انڈسٹری پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔’ہائبرڈ اور الیکٹرک کاروں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ ختم کرنے سے یہ گاڑیاں صارفین کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی۔‘ اس وجہ سے صارفین کو مجبوراً تیل سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف جانا ہوگا جس کی وجہ سے تیل کی درآمد کا بل بھی بڑھ جائے گا کیونکہ ’سب سے زیادہ 1300 سے 1800 سی سی کی ہائبرڈ گاڑیاں امپورٹ ہوتی ہیں اور فیول کم استعمال ہونے کی وجہ سے مڈل کلاس اِن گاڑیوں کو ترجیح دیتی ہے۔‘

کیا عمران خان کے بعد شاہد آفریدی بھی یہودی ایجنٹ نکلا؟

پاکستان الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرر اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل شوکت قریشی کے مطابق حکومتی اقدامات سے کارسازی کی صنعت کا بیڑا غرق ہو جائے گا۔ حکومتی اقدامات سے ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں اوسطاً 15 سے 30 لاکھ روپے تک اضافہ ہو جائے گا۔’گاڑیاں مہنگی ہونے کی وجہ سے ان کی فروخت کم ہو جائے گی اور نتیجتاً انڈسٹری سے جمع ہونے والے ٹیکسوں میں بھی کمی ہوگی۔‘شوکت قریشی کے مطابق حکومتی اقدامات سے گاڑیوں کی قیمتوں میں 20 سے 22 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔’ہائبرڈ اور الیکٹرگ گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور مزید ٹیکس لگانے سے کلین اور گرین انرجی کی حوصلہ شکنی ہوگی جس سے حکومت کا پیٹرول کا درآمدی بل پھر بڑھ جائے گا۔‘

Back to top button