کیا جنگ بندی کے بعد آیت اللہ خامنہ ای زوال کا شکار ہونے والے ہیں؟

اسرائیل سے جنگ بندی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینے کا دعوی تو کر دیا ہے لیکن عالمی مبصرین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اب خامنہ ای کا اپنا زوال بھی شروع ہو چکا ہے۔
بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق سیز فائر کے باوجود ایران کے 86 سالہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ابھی تک اپنے خفیہ بنکر سے باہر نہیں آئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیز فائر کے بعد انکا پہلا خطاب دراصل ریکارڈ شدہ تھا۔ خامنہ ای کو اب بھی یہ خطرہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل انہیں مارنے کے لیے اچانک ڈرون حملہ کر سکتا ہے لہذا اب بھی احتیاط کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے اہم ترین حکومتی شخصیات کو بھی اب تک خامنائی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔
بین الاقوامی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ جب خامنائی اپنے خفیہ بنکر سے باہر آئیں گے تو ان کے سامنے ایک نیا ایران ہو گا جو جنگ سے پہلے والے ایران سے کافی مختلف ہو گا۔ جب خامنہ ای اپنی محفوظ پناہ گاہ سے باہر نکلیں گے تو ایران میں موت، تباہی اور بربادی سے بھرے مناظر ان کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے۔ اپنے بنکر سے جاری کردہ ویڈیو خطاب میں خامنہ ای نے اسرائیل کیساتھ جنگ میں ایران کی شاندار کامیابی اور امریکہ اور اسرائیل کی بدترین شکست کا دعوی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں دشمن ممالک مل کر بھی اپنا مقصد حاصل نہیں کر پائے۔
ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایران ’صیہونی ریاست‘ کے خلاف جنگ میں ’فاتح‘ بن کر اُبھرا ہے۔انھوں نے اپنے پیغام میں امریکہ اور امریکی صدر پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ امریکہ براہ راست جنگ میں ’اس لیے داخل ہوا کیونکہ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو صیہونی ریاست مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ کو ’اس جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا‘ اور ایران نے ’امریکہ کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ مارا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران سے ’سرنڈر‘ کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا چونکہ ایک عظیم ملک اور قوم کے لیے سرنڈر لفظ کا ذکر بھی توہین ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کے ’فتح‘ کے دعوے اپنی جگہ لیکن ایک خونی جنگ کے بعد انکو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے کافی محنت کرنا ہوگی کیونکہ ایرانی عوام کا کافی نقصان ہوا ہے۔ ایسے میں خامنہ ای کو اب نئے حقائق اور نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مبصرین کے مطابق جنگ نہ صرف ایران کو شدید طور پر کمزور کر گئی ہے بلکہ اس کے باعث خامنہ ای کی حیثیت اور اثر و رسوخ میں بھی نمایاں حد تک کمی آئی ہے۔خامنہ ای 1989 سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ ہیں تاہم انکے ناقدین اس مرتبہ انھیں ایران کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ٹکرؤ کی راہ پر ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک لے لیے بڑی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق خامنہ ای ممکنہ طور پر اب بھی اس گمان میں ہوں گے کہ ان کی حکومت کسی نہ کسی طرح بچ گئی ہے۔ لیکن 86 برس کی عمر اور بیماری کی حالت میں وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ ان کے اپنے دن بھی گنے چنے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ لہٰذا وہ نظامِ حکومت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اقتدار کی منظم منتقلی کی کوشش کر سکتے ہیں۔
یہ منتقلی چاہے کسی سینئر مذہبی رہنما کو اقتدار سونپنے کی صورت میں ہو یا پھر کسی رہبر کونسل کے ذریعے کی جائے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے خامنہ ای نے اپنی موت کی صورت میں جانشینی کے لیے نہ صرف تین سینیئر علما کا انتخاب کر لیا تھا بلکہ فوجی قیادت میں بھی متبادل شخصیات کا انتخاب کر لیا تھا تاکہ اگر ان کے مزید قریبی کمانڈرز مارے جائیں تو ان کے خلا کو فوری طور پر کیا جا سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی ہارڈ لائن پالیسیوں کی وجہ سے ایران پچھلی تین دہائیوں سے بین الاقوامی پابندیوں کا شکار ہے جس نے ایرانی معیشت کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کا ایک نمایاں تیل برآمد کرنے والا ملک اب ایک کمزور اور غریب ملک بن چکا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایرانی حکومت اس صورت حال میں ذیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ پائے گی، یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ علی خامنہ ای غالباً اسلامی جمہوریہ ایران کے آخری حقیقی رہبرِ اعلیٰ ثابت ہوں گے۔
ٹرمپ نے سیز فائر کے بعد خامنائی کے قتل کا منصوبہ کیسے ناکام بنایا؟
تاہم ایرانی عوام کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ اسرائیل ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے لہذا اب شاید فوری تبدیلی ممکن نہ ہو۔ بہت سے ایرانی حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں تاہم وہ اپنی ہپ خواہش تب دبا دیتے ہیں جب انہیں بیرونی طاقتوں کے ذریعے ایسی تبدیلی کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
یاد رہے خامنہ ای دنیا میں طویل ترین عرصے تک اقتدار میں رہنے والے حکمرانوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنے تقریباً 40 سالہ دورِ حکمرانی میں ملک کے اندر ہر طرح کی سیاسی مخالفت کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اپوزیشن رہنما یا تو جیلوں میں قید ہیں یا ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ بیرونِ ملک موجود حزب اختلاف کے رہنما بھی اب تک ایسا کوئی واضح موقف وضع کرنے میں ناکام رہے ہیں جو ایران میں حکومت مخالف عناصر کو متحد کر سکے۔
