بلوچستان حکومت نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 پر عمل درآمد معطل کر دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز (ترمیمی) ایکٹ 2025 پر عمل درآمد فی الوقت ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے روک دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اپوزیشن رہنماؤں اور کمیٹی ممبران سے کامیاب مذاکرات کے بعد کیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری اور صوبائی وزرا کے ہمراہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ مذکورہ قانون کا مسودہ اب نظرثانی اور بہتری کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کو واپس بھیجا جائے گا، تاکہ اپوزیشن سے مشاورت کے ساتھ قابلِ قبول اصلاحات شامل کی جا سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس وقت ترمیم شدہ مسودہ دوبارہ اسمبلی میں پیش کرے گی جب اسٹینڈنگ کمیٹی سے سفارشات موصول ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ یہ بل پہلے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا، مگر بعد میں اس پر اپوزیشن اور دیگر سیاسی حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم نے ابتدا ہی سے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ ہر فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا، اور حکومت تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی پیش رفت کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات تعمیری اور خوشگوار ماحول میں ہوئے، جس کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ قانون کے مسودے پر دوبارہ غور کیا جائے گا اور اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کو واپس بھیجا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اس پیش رفت کو جمہوری رویوں اور عوامی مفادات سے حکومت کی وابستگی کا ثبوت قرار دیا، اور کہا کہ ترامیم کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک نئی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔
