بلوچستان کے بعد نون لیگ کا رخ سندھ کی جانب

انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی نون لیگ نے اپنے سیاسی پتے شو کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ مسلم لیگ نون نے مشن بلوچستان کی کامیابی کے بعد سندھ کا قلعہ فتح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے قائد نواز شریف نے الیکشن سے قبل بلوچستان میں اپنی جماعت کی مکمل بحالی اور اتحادیوں سے معاملات طے کرنے اگلے ہفتے سندھ کا معرکہ سر کرنے جارہے ہیں۔ جہاں وہ کم از کم بیس نشستیں محفوظ بنانے کا ہدف پورا کریں گے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے دورہ کوئٹہ کی کامیابی کے بعد آئندہ نون لیگ کو الیکشن میں جہاں مرکز اور پنجاب میں متوقع کامیابی کی امیدیں ہیں۔ وہیں بلوچستان میں صوبائی حکومت بنانے کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔  اب مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے قائد میاں نواز شریف اگلے چند روزمیں صوبہ سندھ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس دوران وہ کراچی میں کنگری ہائوس کا بھی دورہ کریں گے اور پیر صاحب پگاڑا شریف سے ملاقات کریں گے۔ جس کے بنیادی نکات کم و بیش طے کیے جا چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق گریند ڈیموکریٹک الائنس کے برقرار رہنے یا اس میں کسی تبدیلی اور اس کا مستقبل کا فیصلہ بھی نواز شریف کے دورہ سندھ کے دوران ہوگا۔ جی ڈی اے کی بڑی پارٹی پاکستان مسلم لیگ فنگشنل کی طرف سے دس نشستوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور امکان غالب ہے کہ اسے بڑی حد تک تسلیم کرلیا جائے گا اور وہ تمام نشستیں فنگشنل لیگ واپس لے گی۔ جو سنہ دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں اسے کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں یا خاص انداز سے’سرقہ‘ کی گئی تھیں۔

اندرون سندھ کی ان نشستوں کے علاوہ پیپلز پارٹی سے ماضی قریب میں ملنے والے کچھ سیاسی رہنما بھی اپنا ’قبلہ‘ تبدیل کرنے کیلیے پر تولتے بتائے جاتے ہیں اور اس وقت وہ مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا عوام سے رابطہ کم ہوا تھا اور مخصوص افراد اور الیکٹ ایبلز کی طرف توجہ زیادہ دینے سمیت دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ سنہ دو ہزار کے الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی ایک وجہ وہ رویہ بھی رہا۔ جو اب پیپلز پارٹی کی قیادت نے سندھ میں اختیار کر رکھا ہے۔کئی حلقوں میں پیپلز پارٹی کے پاس پارٹی ٹکٹ کے حوالے سے اختلافات سامنے آنے کا امکان ہے۔ جبکہ جن سیاسی رہنمائوں کو ٹکٹ ملنے کا امکان کم ہے۔ وہ نواز شریف کی آئندہ الیکشن میں دو تہائی اکثریت ملنے کے تاثر پر اسی کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور نون لیگ کے مختلف رہنمائوں سے رابطے میں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ارباب رحیم اور مرتضیٰ جتوئی بھی مسلم لیگ ’’ن‘‘ کی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ اسی طرح کچھ دیگر سیاسی رہنما بھی نون لیگ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جس طرح نواز شریف کو دورہ بلوچستان کے دوران انتخابی سیاست کے اہم رہنمائوں کو بھرپور ساتھ مل گیا ہے۔ ممکنہ طور پر اس سے زیادہ ساتھ سندھ سے بھی ملنے کا امکان ہے۔اس کے اعلان یکے بعد دیگرے یا پھر کسی خاص تقریب میں میاں نوازشرف کی کراچی میں سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد ہوگا۔ لیکن اس کا آغاز مختلف سیاسی جماعتوں کےمقامی سطح کے لوگوں کی مسلم لیگ ’’ن‘‘ میں شامل ہونے سے ہوگا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے وطن واپسی کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز بلوچستان سے کیا ہے اور یہاں تیس کے قریب الیکٹیبلز کو اپنی جماعت کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔بلوچستان کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نواز شریف کا دورہ بلوچستان کامیاب رہا اور بڑی تعداد میں الیکٹیبلز کی شمولیت کے بعد صوبے میں ن لیگ کی حکومت بننے کے قوی امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
تاہم تجزیہ کار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب رہنے والے، صرف اقتدار کی سیاست اور مشکل وقت میں ساتھ چھوڑنے والوں کو دوبارہ اپنی صفوں میں شامل کرنے سے مسلم لیگ ن کی سیاسی ساکھ کو عوامی سطح پر نقصان بھی پہنچا ہے۔ن لیگ کا حصہ بننے والوں میں ایک سابق وزیراعلیٰ، تین سابق ارکان قومی اسمبلی اور12 سابق ارکان بلوچستان اسمبلی شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر سیاستدان 2013 یا 2018 کے الیکشن میں اپنے حلقوں سے کامیاب رہے ہیں۔

ن لیگ میں شامل ہونے والوں میں زیادہ تعداد بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں کی ہے۔بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کی رائے میں نواز شریف اپنے دورے میں کامیاب رہے اور الیکٹیبلز کی اکثریت کو اپنے ساتھ ملایا، اب یہ امکانات قوی ہوگئے ہیں کہ بلوچستان میں اگلی حکومت ن لیگ کی بنے گی۔
ان کے بقول اس کے اثرات صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ باقی صوبوں پر بھی پڑیں گے اور وہاں کے الیکٹیبلز کو بھی یہ تاثر چلا گیا ہے کہ ہواؤں کا رخ ن لیگ کی طرف ہے اور مرکز میں بھی ن لیگ کی حکومت آنے والی ہے۔
شہزادہ ذوالفقار کے مطابق نواز شریف نے بلوچستان سے اچھا آغاز کیا ہے، پیپلز پارٹی نے بھی ن لیگ کی بلوچستان میں قدم جمانے کی کوششوں کے بعد بلوچستان میں 30 نومبر کو یوم تاسیس پر جلسے کا اعلان کیا ہے۔

’شاید بچے کچھے الیکٹیبلز ان کی طرف چلے جائیں مگر مجموعی طور پر پیپلز پارٹی خسارے میں ہے۔‘
ان کے بقول اصل سیاسی لڑائی پنجاب میں ہونی ہے وہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی میں مقابلہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی کی بدقسمتی ہے کہ وہاں انہیں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں۔ پنجاب میں کامیاب ہونے والی جماعت ہی مرکز میں حکومت بنائے گی اس لیے الیکٹیبلز اس جماعت کو ہی اہمیت دیں گے جو

الیکشن میں سب ایک ہو کر حریفوں کا مقابلہ کریںگے

مرکز میں حکومت بنا سکتی ہے۔

Back to top button