بلاول نے نواز شریف کو اوپن مناظرے کا چیلنج کیوں دیا؟

پاکستان میں جیسے جیسے الیکشن کی تاریخ قریب آرہی ہے ملک کی سیاسی گہماگہمی میں بھی اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور اب انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو مناظرے کی دعوت بھی دے دی ہے۔جمعے کو چیئرمین پی پی پی نے ایکس (ٹوئٹر) پر مسلم لیگ ن کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار میاں نواز شریف کو الیکشن سے قبل کسی بھی وقت براہ راست مباحثے کی دعوت دی۔ جس کے جواب میں مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے مناظرے کی بجائے سندھ کے معائنے کا مطالبہ کر دیا تاہم بلاول بھٹو نے فوری شہباز شریف کی اس آفر کو بھی قبول کر لیا لیکن اس کے بعد دونوں اطراف سے اس حوالے سے تاحال خاموشی طاری ہے۔
خیال رہے کہ ’عالمی سطح پر صدارتی اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار ٹیلی ویژن پر ہونے والے مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں، جس میں وہ ووٹرز کو اپنے منصوبوں کے بارے میں اہم نکات بیان کرتے ہیں۔‘ تاہم پیپلز پار ٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو 8فروری کو ہونیوالے عام انتخابات سے قبل مباحثے کا چیلنج دیکر انتخابی مہم کو نیا اور دلچسپ رخ دیدیا ہے،
واضح رہے کہ بلا ول بھٹو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پہلے اپنے انتخابی منشور پر فوکس کیا اب مخالفین پر تنقید کرتے دکھائخ دیتے ہیں. تاہن پی ٹی آئی ووٹرز کو متوجہ کرنے کیلئے بلاول کی تنقید کا ہدف عمران خان کم جبکہ نواز شریف زیادہ ہیں تاہم نواز شریف براہ راست تنقید سے گریز کر رہے ہیں۔ تاہم شہباز شریف اور مریم نوا ز نے نام لئے بغیر پیپلز پارٹی پر تنقید شروع کردی ہے. دوسری جانب بلاول بھٹو کی جانب سے مباحثے اور مناظرے کے چیلنج کے بعد سیا سی حلقوں میں بحث چل پڑی ہے کہ آخر بلاول نے نواز شریف کو مباحثے کا چیلنج کیوں دیا.سوشل میڈیا پر کہیں مباحثے کی اس دعوت کو سراہا جا رہا ہے تو کہیں اسے ناممکن قرار دیا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ مباحثہ ہوتا ہے تو کون جیتے گا؟
صحافی شاہد اسلم، بلاول بھٹو زرداری کی دعوت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’یہ زبردست رجحان ہوسکتا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے سارے امیدواروں کو ایسے مناظرے کرنے چاہییں۔‘وہ اس مباحثے کے مثبت پہلو کو اُجاگر کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ ’لوگ براہ راست ان کے مستقبل کے پلانز، لائحہ عمل اور وژن دیکھ کر فیصلہ کریں کہ ووٹ کسے دینا چاہیے۔‘’امید ہے میاں صاحب یا شہباز شریف صاحب یہ چیلنج قبول کریں گے۔‘
ایکس ہینڈل زوہیب اے ڈی پر لکھا گیا کہ ’بلاول بھٹو کے لیے یہ ایک تعریفی ٹویٹ ہے۔ اس طرح کے مباحثے ضرور ہونے چاہییں۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’میں خوش ہوں کہ سیاسی رویے تبدیل ہو رہے ہیں۔ مستقبل کی سیاسی سرگرمیوں سے نوجوان نسل کو آگاہ ہونا چاہیے۔‘
سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو کے مباحثے کی دعوت پر انہیں سراہا تو جا رہا ہے لیکن ایک ایکس صارف محسن اقبال اسے نورا کشتی کا نام دے رہے ہیں۔محسن اقبال لکھتے ہیں کہ ’نورا کُشتی شروع ہو چُکی ہے اور الیکشن کے بعد یہ پھر ایک ساتھ ہو کر جوڑ توڑ کرتے نظر آئیں گے۔‘وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’پچھلے چالیس سال کی سیاست آج تک جاری ہے کہ بس عوام کو بے وقوف بناؤ۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بلاول بھٹو کے ساتھ مباحثے کا چیلنج دے چکی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال بھی بلاول بھٹو کو نارووال کا موازنہ لاڑکانہ سے کرنے کا چیلنچ کر چکے ہیں۔بہر حال اب الیکشن میں گیارہ دن رہ گئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ مناظرے کے چیلنج اور نواز شریف پر تنقید پر مسلم لیگ ن کیا جوابی وار کرتی ہے،بلاول چاہتے ہیں انہیں نواز شریف کے قد کا سیا ستدان مان لیا جا ئے اسی لئے انہوں نے مناظرے کا کارڈ کھیلا ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ یہ چیلنج کبھی بھی اپنے انجام تک نہیں پہنچے گا۔
