پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی این کی بندش شروع

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں غیررجسٹرڈ وی پی این بلاک کرنا شروع کردیے ہیں۔
ذرائع کےمطابق پی ٹی اے نے ملک میں غیررجسٹرڈ وی پی این بلاک کرنا شروع کردیے ہیں اور یہ فیصلہ وی پی این کی وائٹ لسٹنگ کےلیے کیاگیا ہے۔
ذرائع کا بتاناہے کہ غیررجسٹرڈ وی پی این سکیورٹی رسک ہیں،غیر رجسٹرڈ اور غیرقانونی وی پی این سے حساس ڈیٹا تک رسائی ہو سکتی ہےجب کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این سے غیر قانونی مواد تک رسائی بھی ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی اے نے 2010 میں وی پی این کی رجسٹریشن کا آغاز کیا تھا اور اب تک تقریباً 20 ہزار 500 وی پی این رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں جب کہ 1422 سے زائد کمپنیاں اب تک وی پی این رجسٹرڈ کرا چکی ہیں۔
ملک میں وی پی این کی سروسز متاثر ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں
خیال رہے کہ وی پی این ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کا مخفف ہے اور یہ ایک ایسے نیٹ ورک کا نام ہےجو صارفین کو پوشیدہ طور پر براؤزنگ کی اجازت دیتاہے۔
ایسےتمام ممالک جہاں پر انٹرنیٹ صارفین کی سوشل میڈیا سائٹس تک رسائی ممکن نہیں ہوتی وہاں پر وی پی این کی مدد سےصارفین اپنا مقام تبدیل کر کے ان سوشل میڈیا سائٹس کو استعمال کر سکتے ہیں۔
