برطانوی جج نے ISI کے خلاف ارشد شریف کے قتل کا الزام رد کر دیا

لندن ہائی کورٹ کے جج رچرڈ سپیئر مین نے پاکستان آرمی کے بھگوڑے میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس  آئی سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل میں ملوث تھی۔ یاد رہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں قیام کے دوران ایک پولیس ناکے پر گاڑی نہ روکنے کے بعد گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

لندن ہائی کورٹ میں آئی ایس آئی پنجاب کے سابق سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی جانب سے میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف دائر کردہ ہتک عزت کیس کے دوران عادل راجہ نے دوبارہ آئی ایس آئی پر ارشد شریف کو قتل کرنے کا الزام دہرا دیا۔ لیکن لندن ہائی کورٹ کے جج سپیئر مین نے جواب میں کہا کہ سرکاری فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہیں بھی آئی ایس آئی کو ارشد شریف کے قتل کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، جج نے کہا کہ اس کے باوجود عادل راجہ نے اپنی گواہی میں اس دعوے کو بنیاد بنایا کہ کینیا میں ہونے والا ارشد شریف کا قتل آئی ایس آئی نے کرایا تھا۔

تاہم عادل راجہ کے وکیل سائمن ہارڈنگ نے حتمی دلائل میں موقف اختیار کیا کہ ارشد شریف کے قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو ایک پہیلی کی طرح جوڑ کر نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ انکے قتل کے پیچھے آئی ایس آئی موجود ہے۔ اس پر جج نے 600؍ صفحات پر مشتمل رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس پوری رپورٹ کا مطالعہ کیا ہے، اس میں کہیں بھی آئی ایس آئی کو قتل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ ویسے بھی اس میں ہر پہیلی کا جواب موجود ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ قتل کینیا میں ایک پولیس ناکے پر گاڑی نہ روکنے کے ردعمل میں فائرنگ کے دوران ہوا، جہاں آئی ایس آئی کا دور دور تک کوئی وجود نہیں۔ جج کا کہنا تھا کہ اگر اس قتل میں آئی ایس آئی ملوث ہوتی تو فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں واضح طور پر اس کا ذکر ہوتا، لیکن ایسا کیہں بھی نہیں ہے۔

برگیڈیئر راشد نصیر کی جانب سے دائر ہتک عزت کیس کی سماعت کے آخری روز عدالت نے عادل راجہ کے وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کے موکل کہ جانب سے سوشل میڈیا پر راشد نصیر کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات عوامی مفاد میں تھے اور انکے ذرائع قابلِ اعتبار تھے، جج کا کہنا تھا کہ بظاہر عادل راجہ نے سوشل میڈیا پر جو بھی پوسٹش کیں وہ من گھڑت کہانیاں تھیں جن سے مدعی کی ساکھ کو نقصان ہوا۔ جواب میں عادل راجہ کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل تسلیم کرتے ہیں کہ الزامات سنگین نوعیت کے تھے، لیکن ان سے بریگیڈیر راشد نصیر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ راشد نصیر نے اب تک اپنے کسی بھی یوبے والے نقصان کا ثبوت نہیں دیا۔ عادل راجہ نے جو پوسٹس شائع کیں، وہ قابل اعتبار ذرائع سے حاصل ہوئی تھیں، جن کی شناخت ظاہر کرنا انکی سلامتی کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

جواب میں جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ذرائع کی ساکھ ہمیشہ اہم ہوتی ہے، اگر ذرائع غیر معتبر ہوں یا کوئی خفیہ ایجنڈا ہو، تو فراہم کردہ معلومات بھی ناقابلِ اعتبار ہو سکتی ہے۔ عدالت کے سامنے برگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر پر الزامات لگانے والے میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کے دفاع میں کوئی بھی تحریری یا بصری مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ کسی مخصوص ذریعے نے یہ معلومات فراہم کیں، کیس کی سماعت کے دوران عادل راجہ نے نہ تو کوئی ای میل پیغام دکھایا، نہ کوئی موبائل فون کا سکرین شاٹ پیش کیا، اور نہ ہی کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش کیا گیا۔ عدالت میں عادل راجہ کے دفاع میں تین گواہوں: شہزاد اکبر، شاہین صہبائی اور سید اکبر نے حاضری دی اور تینوں نے تسلیم کیا کہ وہ حکومتِ وقت کے ناقد ہیں اور راجہ کے ساتھ سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے تعاون کرتے رہے ہیں۔

عمران کی کون سی خواہش انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے گئی؟

 

لندن ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران عمران خان کے بدنام زمانہ مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ان کا عادل راجہ کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں رہا، البتہ وہ یوٹیوب چینل بند ہونے تک آمدن میں ان کے ساتھ شراکت دار تھے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے آئی ایس آئی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہزاد اکبر اور راشد نصیر کی ملاقات 2022 میں ہوئی، جس میں شہزاد اکبر نے راشد نصیر سے درخواست کی کہ وہ شہباز شریف کیخلاف مقدمات کی کارروائی تیزی لانے میں مدد دیں تاکہ انہیں سزا دی جا سکے، لیکن راشد نصیر نے کہا کہ یہ انکا کام نہیں۔

شہزاد اکبر نے تسلیم کیا کہ ان کی راشد نصیر سے ملاقات ہوئی تھی، تاہم انکے مطابق یہ ملاقات فوجی اسٹیبلشمنٹ کی عدلیہ میں ہونے والی مداخلت کا معاملہ اٹھانے کیلئے ہوئی تھی۔ انہوں نے مسٹر مٹھو کی مبینہ کرپشن کا ذکر کیا، جس پر راشد نصیر نے فرح گوگی کی مبینہ کرپشن کا حوالہ دیا جو کہ عمران خان کی تیسری اہلیہ بشرہ بی بی کی دست راست رہی ہیں۔ آخری عمر میں سٹھیا جانے والے نام نہاد اور خوفناک صحافی شاہین صہبائی اور شہزاد اکبر دونوں نے عدالت میں تسلیم کیا کہ ان کے علم میں نہیں کہ راشد نصیر نے لاہور ہائی کورٹ پر کنٹرول حاصل کر کے 2022ء کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ لندن ہائی کورٹ میں ہتک عزت کے کیس کی سماعت مکمل ہو گئی ہے جس کا فیصلہ اگلے چند روز میں سنا دیا جائے گا۔

Back to top button