بشریٰ بی بی روحانیت کے رنگ میں سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھیں ، عطاتارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دی اکانومسٹ کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے سیاسی اور حکومتی فیصلے قومی مفاد کے بجائے مبینہ طور پر روحانیت کے رنگ میں، اہلیہ بشریٰ بی بی کے مطابق ہوا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی اکثر سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ سابق خاتونِ اول نہ صرف مختلف سیاسی معاملات پر اثر ڈالتی تھیں بلکہ ان فیصلوں پر عملدرآمد بھی کرواتی تھیں۔

ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے اہم سیاسی و حکومتی فیصلے ملکی مفاد کی بنیاد پر نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ فیصلے مبینہ طور پر بشریٰ بی بی کی جانب سے کیے جاتے تھے، جن میں معاشی اور سیاسی معاملات بھی شامل تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف پر جھوٹا الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے 10 ارب ڈالر کی پیشکش کی تھی، جبکہ عدالت میں پی ٹی آئی کے وکلا ان الزامات کا دفاع نہ کر سکے۔

عطا تارڑ کے مطابق عمران خان کی سیاست “منافقت، جھوٹ اور بہتان” کے گرد گھومتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2017 کے دھرنوں میں بے بنیاد الزامات لگائے جب کہ خیبر پختونخوا میں جماعت کی کارکردگی "صفر” رہی۔

انہوں نے کہا کہ وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ایک بڑا سانحہ بن سکتا تھا، تاہم پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 500 سے زیادہ طلبا کو بحفاظت نکالا۔

اسلام آباد دھماکے کے بعد بھی سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان جاری رکھنے پر انہوں نے سری لنکن ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک آئین اور قانون کے مطابق چل رہا ہے اور فیصلے کسی کی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہیں ہوں گے۔

Back to top button