عمران خان کس فارمولے پر چل کر اپنی سیاست بچا سکتے ہیں

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست اور عمران خان کا ٹکراؤ اپنے عروج پر ہے اور بدقسمتی سے دونوں فریقین کو اپنے جذبۂ ایمانی اور سرفروشی پر کامل یقین ہے۔ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے جھوٹ اور مبالغے کی بوچھاڑ کر رکھی ہے۔

انکے مطابق شہر شہر، قریہ قریہ، گلی کوچہ، گھر گھر انتشار اور گروہ بندی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور دونوں اطراف کے سیاسی بیانیوں نے اچھے بُرے، کام اور مقام کی تمیز ختم کر رکھی ہے۔

حفیظ اللہ خان نیازی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ سیاسی افراط و تفریط کی دلدل میں دھنسی مملکتِ پاکستان میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ریاستی فیصلہ ساز اور مقبولیت کے نشے میں چور عمران خان ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ وطنِ عزیز میں سیاسی عدم استحکام کا ہیجان برپا ہے۔ دونوں فریق جذبۂ ایمانی اور خداوندی تائید کے دعویدار، ایک دوسرے کو ملک دشمن کے القابات سے نواز رہے ہیں۔

حفیظ اللہ خان نیازی کا کہنا ہے کہ اس سب کے باوجود افسوس ناک بات یہ ہے کہ ریاست کے ایوانوں میں اور مقبولیت کے خانوں میں ’سب اچھا‘ کی رپورٹ ہے، دونوں فریق مبالغے سے کام لے رہے ہیں۔ لیکن ریاست کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد مقبولیت کے نشے میں سرشار عمران کی جانب سے ریاستی اداروں پر رقیق ترین حملوں اور ریاست کے خلاف جہاد کا اعلان ہونے کے باوجود ریاست مشتعل نہ ہوئی، یہاں تک کہ 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملے کر دیئےگئے۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ 9 مئی 2023 سے پہلے تو افہام و تفہیم اس درجے پر تھی کہ اپریل 2023 میں ریاست اور مقبولیت نئے انتخابات پر بھی رضامند ہو گئے تھے۔ لیکن عمران کی سیاسی عاقبت نااندیشی نے معاملے کو سبوتاژ کر دیا اور موصعف نے اپنے ساتھ اپنی جماعت کی ساکھ بھی تباہ و برباد کر ڈالی۔ تاہم 9 مئی کے اندوہناک واقعے کے بعد بھی اگرچہ ریاست نے افہام و تفہیم کی حوصلہ افزائی کی۔ نیازی کہتے ہیں کہ اس کے باوجود مقبولیت کے نشے میں چور کپتان اپنی ریاست مخالف روش سے باز نہیں آیا۔ اس ٹکراؤ نے انارکی کو جنم دیا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔

وہ یاد دلاتے ہیں کہ 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سزا کے علاوہ عمران خان کو توشہ خانہ ریفرنس ون اور ٹو میں بھی لمبی قید کی سزائیں ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب ملک میں سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ رہا ہے۔ اگر جنرل ایوب خان کا دس سالہ ترقیاتی دور، جنرل ضیاء الحق کے دور میں وطنِ عزیز پر ڈالروں کی بارش، جنرل مشرف کے اقتدار میں پوری لوئر مڈل کلاس کا اپر مڈل کلاس میں پہنچنا اور اپر مڈل کلاس کا امرا اور رؤسا بن جانا ہمیں سیاسی استحکام سے عملاً دور لے گیا تو آج بھی مستحکم سیاسی نظام کے بغیر مملکت کے بارے میں سارے خواب درہم برہم ہیں۔ حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ کاش مقبولیت کے گھوڑے پر سوار عمران خان اپنی توانائیاں خواب خیالیوں اور افراط و تفریط بڑھانے میں صرف نہ کرتے اور افہام و تفہیم سے معاملہ فہمی کر پاتے۔

عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہو جانے کے بعد ریاست کو ان سے ڈیل کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر خان اپنی ذات منہا کر کے کوئی اصولی مفاہمتی فارمولا آگے بڑھائیں، اور ایک عرصہ تک خود کو سیاست سے دور ر کر لیں، تو وقت خود ایک بڑا مرہم ہے۔ پہلی فرصت میں آدھا کھلا دروازہ پورا کھل جائے گا اور انکی قبولیت کا وقت دوبارہ بھی ضرور آئے گا۔ دوسری طرف ریاست پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اپوزیشن کے اصولی مطالبات، خصوصا پارلیمان، آئین اور قانون کی بالادستی کو صدقِ دل سے نافذ کر دے۔ ایسا ہو جائے تو ایک طرف ریاست کی جیت ہو گی تو دوسری طرف عمران خان کی سیاست بھی بچ جائے گی۔

Back to top button