کیا پرویز الہی عدم اعتماد سے پہلے وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں؟

عدم اعتماد کی تحریک کے چیلنج سے نبردآزما وزیراعظم عمران خان پر اپنی سیاسی زندگی کے سب سے بڑے بحران سے نکلنے کے لیے چوہدری پرویز الٰہی کو بزدار کی کرسی پر بٹھانے کا دباو ہے لہذا دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الٰہی کپتان کے خلاف ووٹنگ سے پہلے وزیر اعلی پنجاب بن پائیں گے یا نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر پرویز الہی کو انکار ہو جاتا ہے تو کیا قاف لیگ عمران کا ساتھ چھوڑ دے گی؟

واضح رہے کہ گجرات کے چوہدریوں نے کھل کر پنجاب کی وزارتِ اعلی کا مطالبہ کر دیا ہے اور یہ کہہ کر وزیر اعظم کو بلیک میل کر رہے ہیں کہ اگر پرویز الٰہی کو بزدار کی جگہ نہ دی گئی تو وہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مدد سے وزارت اعلیٰ حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب عمران خان بھی پوری طرح آگاہ ہیں کہ چوہدری برادران اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی آفر سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اس لئے وہ ق لیگ کو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد وزارتِ اعلی دینے کی یقین دھانی کرانے کی کوشش میں ہیں لیکن چوہدری کپتان پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد دائر کیے جانے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ تاہم تحریکِ انصاف کو بظاہر حقیقی خطرہ اپنی ہی جماعت کے اندر سے ہے اور اس کی کڑیاں صوبہ پنجاب سے ملتی ہیں۔

پنجاب میں حکومتی مشکلات کا محور صوبے کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ’ناراض اراکین‘ کے گروپ خاص طور پر جہانگیر ترین گروپ چاہتا ہے کہ انھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ اس کے بغیر حکمران جماعت سے مزید بات چیت نہیں ہو گی۔ اپنے حالیہ دورہ لاہور کے دوران جب وزیرِاعظم نے اپنی جماعت کے ممبران پنجاب اسمبلی سے ملاقات کی تو جہانگیر ترین گروپ کے اراکین نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ تاہم لاہور کے حالیہ دورے پر وزیرِاعظم عمران خان نے وزیرِاعلیٰ پنجاب پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق حکمراں جماعت کی مشکل یہ ہے کہ وہ اگر وزیرِاعلیٰ پنجاب کو تبدیل کرتی ہے تو نیا وزیرِاعلیٰ کون ہوگا۔ کیا وہ پی ٹی آئی کے اندر ہی سے اٹھنے والے ’ناراض اراکین‘ میں سے ہوگا تاکہ انھیں منا لیا جائے؟ یا پھر اتحادی جماعت ق لیگ میں سے ہوگا تاکہ گجرات کے چوہدریوں کی حمایت سے فوری طور پر درپیش عدم اعتماد جیسی مشکلات سے نکلا جا سکے۔۔۔ یا پھر کیا کوئی تیسرا شخص ہو سکتا ہے؟ تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے بتایا کہ ’موجودہ حالات میں جو دباؤ ہے وہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے لے برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں وفاق میں جو اس وقت سیاسی ماحول ہے اس کی وجہ سے پنجاب میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے لیے بہتر یہ ہو گا کہ وہ اس حوالے سے جلد فیصلہ کرے۔ اس وقت ٹائمنگ ان کے لیے بہت اہم ہوگی۔ انھیں موزوں وقت پر فیصلہ کرنا ہو گا۔ اگر انھوں نے دیر کی تو اس کا انھیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق عمران کے پاس فیصلے کے لیے رواں ہفتے کا ہی وقت موجود ہے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے لیے اس وقت مسئلہ یہ نہیں کہ عثمان بزدار کو ہٹانا ہے۔ ان کے خیال میں وزیر اعظم کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نیا وزیرِاعلٰی کسے بنایا جائے۔ اگر وہ ق لیگ کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کو وزیرِ اعلیٰ بناتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پارٹی پنجاب میں چوہدریوں کے پاس چلی جاتی ہے اور پی ٹی آئی والے ناراض ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ خطرہ مول لینا چاہیں گے۔ تاہم دوسری طرف اگر وہ ق لیگ کو وزارتِ اعلیٰ نہیں دیتے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کی اتحادی جماعت اس سے کم کسی آفر پر تحریکِ عدم اعتماد میں ان کا ساتھ دینے پر راضی ہو گی یا نہیں۔ ان کے خیال میں عمران خان کے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر موجود جہانگیر ترین گروپ کو وزارتِ اعلیٰ کی آفر کی جائے۔ ’تاہم مشکل یہ ہے کہ کس کو منایا جائے اور کس کو ناراض کیا جائے۔ اس وقت سیاسی فائدہ کس سمت جانے میں ہو گا۔ سہیل وڑائچ سجمھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لیے بہتر آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ وہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ق لیگ کو دے دیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ق لیگ کی قیادت اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مرکز میں بھی وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں عمران کی مدد کر سکتی ہے۔

مسلم لیگ ق کا حکومتی اتحاد چھوڑنے کا قوی امکان

یاد رہے کہ اپنے حالیہ دورہ لاہور کے دوران وزیرِاعظم عمران خان نے وزرا سے ملاقات میں ہدایت کی تھی کہ اس وقت تمام تر توجہ مرکز پر رکھی جائیں اور حزبِ اختلاف کی عدم اعتماد تحریک کو ناکام بنانے کے لیے کام کیا جائے۔ تاہم سہیل وڑائچ کے خیال میں اگر ق لیگ کو وزارتِ اعلیٰ نہیں دی جاتی تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ وزیرِاعظم کا ساتھ دیں گے یا حزبِ اختلاف کا بہر حال یہ طے ہے کہ پی ٹی آئی کو پنجاب میں اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ وزیرِاعظم کے لیے اب ایک نفسیاتی جنگ بن چکی ہے۔ تاہم وہ متفق ہیں کہ وفاق میں اپنی حکومت بچانے کے لیے وزیرِاعظم عمران خان کو پنجاب میں جلد فیصلہ کرنا ہو گا۔ پنجاب اس قدر اہم صوبہ ہے کہ اس کے بغیر وفاق میں بھی حکومت قائم رکھنا کسی بھی جماعت کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔

Can Pervez Elahi become Chief Minister before mistrust? Urdu

Back to top button