کیا اب پاکستانی کرکٹ ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ سکتی ہے؟

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے ایک اہم مقابلے میں نیوزی لینڈ کی جیت نے گروپ ٹو کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ہے یا اب بھی اس کا کوئی چانس باقی ہے؟ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سری لنکا کو 61 رنز سے شکست دے دی، جس کے بعد سیمی فائنل تک رسائی کی دوڑ میں نئی صف بندی سامنے آ گئی ہے۔ اس نتیجے نے نہ صرف نیوزی لینڈ کی پوزیشن مستحکم کی بلکہ پاکستان کے امکانات کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
سری لنکا میں ہونے والے اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک بڑا ٹوٹل سکور بورڈ پر سجایا۔ جواب میں سری لنکن بیٹنگ لائن دباؤ برداشت نہ کر سکی اور پوری ٹیم ہدف کے تعاقب میں ناکام ہع گئی۔ کیوی بولرز نے منظم حکمت عملی کے تحت میزبان ٹیم کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ نیوزی لینڈ کی اس کامیابی کے ساتھ ہی گروپ ٹو کی پوائنٹس ٹیبل میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس فتح کے بعد کیوی ٹیم کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں جبکہ سری لنکا عملی طور پر ایونٹ سے باہر ہو چکا ہے۔ یوں گروپ میں اب مقابلہ تین ٹیموں تک محدود ہو گیا ہے۔ گروپ ٹو میں شامل انگلینڈ کرکٹ ٹیم پہلے ہی اپنے ابتدائی دونوں میچ جیت کر 4 پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں جگہ بنا چکی ہے۔ انگلینڈ کی مسلسل فتوحات نے دیگر ٹیموں کے لیے صورتحال پیچیدہ بنا دی ہے، خاص طور پر پاکستان کے لیے۔
نیوزی لینڈ نے دو میچوں کے بعد تین پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں۔ ایک میچ میں کامیابی اور ایک بارش سے متاثرہ مقابلے نے اسے مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے دو میچ مکمل ہو چکے ہیں جن میں ایک میں اسے انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی جبکہ نیوزی لینڈ کے خلاف اس کا میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا۔ اس وقت پاکستان کے پاس صرف ایک پوائنٹ ہے، جو اسکے لیے پوائنٹس ٹیبل پر مشکل پیدا کر رہا ہے۔ قومی ٹیم کے لیے اب سیمی فائنل تک رسائی کا راستہ انتہائی دشوار ہو چکا ہے اور اسے دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔
پاکستان اسی صورت سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے اگر جمعے کو انگلینڈ، نیوزی لینڈ کو بڑے مارجن سے شکست دے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو پیر کے روز سری لنکا کے خلاف اپنا میچ لازمی جیتنا ہوگا۔ تاہم صرف جیت کافی نہیں ہوگی بلکہ فتح کا مارجن بھی فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔
اہم ترین نکتہ نیٹ رن ریٹ ہے۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ 3.050 ہے جو اسے واضح برتری دیتا ہے، جبکہ پاکستان کا نیٹ رن ریٹ منفی 0.461 ہے۔ اگر دونوں ٹیموں کے پوائنٹس برابر بھی ہو جائیں تو فیصلہ رن ریٹ کی بنیاد پر ہو گا، جس میں پاکستان کو غیر معمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔
کرکٹ مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات نہایت محدود دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ کرکٹ میں کچھ بھی ممکن ہے، لیکن اعداد و شمار قومی ٹیم کے حق میں نظر نہیں آ رہے۔ دوسری جانب سپر ایٹ کے گروپ ون میں صورتحال ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئی۔ اس گروپ میں شامل انڈیا کرکٹ ٹیم، جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم، ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم اور زمبابوے کرکٹ ٹیم نے اب تک ایک، ایک میچ کھیلا ہے۔ گروپ ون میں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ اپنے اپنے میچ جیت کر دو، دو پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ انڈیا اور زمبابوے کو اپنے ابتدائی مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ بغیر کسی پوائنٹ کے بالترتیب تیسری اور چوتھی پوزیشن پر موجود ہیں۔
جمعرات کو احمد آباد میں جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اہم مقابلہ کھیلا جائے گا، جو گروپ ون کی سمت کا تعین کرے گا۔ اسی طرح انڈیا اپنا اگلا میچ زمبابوے کے خلاف کھیلے گا، جہاں اسے نہ صرف فتح بلکہ بہتر نیٹ رن ریٹ کی بھی ضرورت ہوگی۔ انڈیا کا نیٹ رن ریٹ اس وقت منفی 3.800 ہے، جو اسے شدید دباؤ میں رکھے ہوئے ہے۔ اگر اسے سیمی فائنل کی دوڑ میں واپس آنا ہے تو آئندہ میچوں میں بڑی کامیابی حاصل کرنا ناگزیر ہوگا۔ ایسے میں طور پر سپر ایٹ مرحلہ انتہائی سنسنی خیز صورت اختیار کر چکا ہے۔ جہاں کچھ ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ پکی کر چکی ہیں، وہیں دیگر کے لیے ہر گیند اور ہر رن فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کے شائقین اب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے میچ پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، کیونکہ اسی نتیجے پر قومی ٹیم کی قسمت کا انحصار ہے۔
