چیف جسٹس کو اپوزیشن نے سیاسی قیدیوں کے مسائل سے آگاہ کیا، سپریم کورٹ اعلامیہ

سپریم کورٹ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا۔ اعلامیہ کےمطابق ملاقات میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے قید عمران خان اور دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو درپیش مسائل اجاگر کیےاور شکایت کی کہ اپوزیشن قیادت کے مقدمات جان بوجھ کر مختلف مقامات پر ایک ہی وقت میں مقرر کیےجاتے ہیں اور کہا کہ ایسا اس لیےکیا جاتا ہے کہ عدالتوں میں پیشی ممکن نہ ہوسکے۔

اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پارٹی رہنماؤں شبلی فراز،بیرسٹر گوہر علی خان، بیرسٹر علی ظفر،بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ،ڈاکٹر بابر اعوان کے ہمراہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی

رجسٹرار محمد سلیم خان اور سیکرٹری قانون و انصاف کمیشن تنزیلہ صباحت نے چیف جسٹس کی معاونت کی۔

پی ٹی آئی وفد کی چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔

اعلامیے کےمطابق اصلاحات کے ایجنڈے پر وسیع پیمانےپر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کےلیے اپوزیشن قیادت کو مدعو کیا،پی ٹی آئی کی قیادت نے چیف جسٹس سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہوں نے پی ٹی آئی وفد کا خیرمقدم کیا۔

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کےمجوزہ اجلاس سے آگاہ کیا اور بتایاکہ وزیراعظم سے ملاقات کی،ان سے اصلاحات کے ایجنڈے پر حکومت کی رائے فراہم کرنے کی درخواست کی،وزیر اعظم نے اس عمل کو مثبت انداز میں لیا اور پالیسی سازی اورعملدرآمد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اعلامیے میں کہاگیا ہےکہ چیف جسٹس نے مزید بتایا قانون و انصاف کمیشن کو فیڈ بیک موصول ہوچکا ہے،یہ فیڈ بیک ملک بھر کی بار کونسلز،عوام کی آرا اور ضلعی عدلیہ کی طرف سے موصول ہوا،ہائی کورٹس کے رجسٹرارز اور صوبائی جوڈیشل اکیڈمیز کی رائےبھی جلد متوقع ہے۔

چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو یقین دہانی کرائی کہ ٹیکس مقدمات کو جلد نمٹانا اولین ترجیح ہے اور زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد میں کمی اولین ترجیح ہے۔ چیف جسٹس نے تجویز دی عدالتی اصلاحات کو ایک کم از کم مشترکہ قومی ایجنڈا بنایا جانا چاہیے اور مشترکہ قومی ایجنڈے کیلئے دو طرفہ حمایت ہونی چاہیے۔

اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے قید عمران خان اور دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو درپیش مسائل اجاگر کیے اور شکایت کی کہ اپوزیشن قیادت کے مقدمات جان بوجھ کر مختلف مقامات پر ایک ہی وقت میں مقرر کیےجاتے ہیں اور کہا کہ ایسا اس لیےکیا جاتا ہےکہ عدالتوں میں پیشی ممکن نہ ہو سکے۔

سپریم کورٹ اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ چیف جسٹس سے ملاقات میں عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ پارٹی قیادت اور کارکنوں کے مقدمات کی پیروی کرنےوالے وکلا کو ہراساں کیا جارہا ہے،جیل حکام عدالتوں کے احکامات پر عمل نہيں کر رہے،پی ٹی آئی کے وکلا پر دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔

سپریم کورٹ اعلامیہ کےمطابق عمر ایوب نے کہاکہ ملک کا اقتصادی استحکام قانون کی حکمرانی پر منحصر ہے،معاشی بحالی تب ہی ممکن ہےجب عدلیہ اپنا کردار ادا کرےاور ایگزیکٹو کو جوابدہ بنایاجائے۔

اعلامیے میں مزید کہاگیا ہےکہ پی ٹی آئی وفد کے دیگر شرکا نےبھی اسی نوعیت کی آراء کا اظہار کیا، پی ٹی آئی وفد نے اس حقیقت کو تسلیم کیاکہ عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے،عوام کو ریلیف اسی وقت ممکن ہےجب ضلعی عدلیہ زیر التوا مقدمات مؤثر طریقے سے نمٹائے۔

سپریم کورٹ اعلامیے کےمطابق ملاقات میں بیرسٹر علی ظفر نے درخواست کی کہا کہ فراہم کردہ پالیسی تجاویز کا جواب دینے کےلیے وقت درکار ہے، انہوں نے فوجداری انصاف کے نظام اور دیوانی مقدمات کے حل میں بہتری کے لیے قیمتی تجاویز پیش کیں اور مزید سفارشات بھی وقت کے ساتھ فراہم کرنے کا عندیہ دیا۔

خیال رہےکہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان سے ملاقات کی تھی۔

Back to top button