کنفیوژڈ سولر پالیسی: مڈل کلاس شہباز شریف کو معاف نہیں کرے گی ؟

سینیئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے اگر سستی بجلی کے حصول کا وسیلہ بننے والے سولر پینلز کو مزید مہنگا کیا یا ان سے پیدا ہونے والی بجلی کی سرکاری قیمت خرید کم کی تو پاکستانی مڈل کلاس وزیراعظم اور ان کی جماعت کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور سولر کا پھندا اس کے گلے میں ڈال دے گی۔

سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ مڈل کلاس اور لوئر کلاس کا آج کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی اور سولر پینلز ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ملک کا یہ سب سے بڑا معاشی، سیاسی اور ذاتی مسئلہ، حکومت نے کنفیوژ کر کے رکھا ہوا ہے۔ کبھی لگتا ہے کہ حکومت سولر پینلز پر ٹیکس کم کر کے اسکی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، لیکن پھر اچانک سولر پینلز پر عائد ٹیکس بڑھا دیا جاتا ہے اور سولر سسٹم سے بجلی پیدا کر کے سرکار کو بیچنے والوں کے لیے فی یونٹ ریٹ کم بھی کم کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ بد دل ہو جائیں۔ پہلے اسی حکومت نے عوام کو سولر سسٹم لگانے پر قائل کیا، اب واپڈا کا کہنا ہے کہ اسکی بجلی کی پیداوار وافر ہے لیکن استعمال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ سولر سسٹم ہے۔ ایسے میں اگر نرم سے نرم الفاظ میں بھی موجودہ حکومت کو نا اہل نہ کہا جائے تو کم ازکم کنفیوژڈ تو کہنا ہی پڑے گا۔

سہیل وڑائچ کے بقول پچھلی چند دہائیوں کی سیاست دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی حکومت برسراقتدار آتی ہے تو وہ اس وقت کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کرنے میں جُت جاتی ہے۔ وجہ یہ ہوتی یے کہ اگر وہ اس چیلنج سے عہدہ برا ٓہو جائے تو اس کی مقبولیت بڑھ جائے گی اور ساکھ بھی بہتر ہو جائے گی۔ محمد خان جونیجو، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے سائے میں وزیراعظم بنے تھے۔ ان پر مارشل لا سرکار کا ہمنوا بننے کا داغ تھا، مگر انہوں نے پہلی ہی تقریر میں مارشل لا سے چھٹکارا حاصل کرنے کا عندیہ دے دیا اور پھر اپنی آزادی اور خود مختاری کی جدوجہد شروع کردی۔ محترمہ بینظیر بھٹو برسراقتدار آئیں تو ان کا بڑا مسئلہ جمہوریت کی بحالی اور جمہوری اقدار کو مضبوط کرنا تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے بہت عرق ریزی سے کام کیا۔ نواز شریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے معیشت میں اصلاحات کیں اور موٹروے بنا کر نام کمایا۔

جب ائین شکن جنرل مشرف قابض ہو کر اقتدار میں آیا تو اس نے امریکہ کا اتحادی بن کر القاعدہ سے جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت آئی تو انہوں نے صوبائی حقوق اور جمہوری حقوق بڑھانےکیلئے اٹھارہویں ترمیم کی، بینظیر بھٹو کی شہادت کی تفتیش اقوام متحدہ سے کروائی۔ جب نواز شریف تیسری بار اقتدار میں آئے تو انہوں نے معیشت پرتوجہ دی اور موٹر ویز کی تعداد میں اضافہ کیا۔ عمران خان آئے تو انہوں نے ہیلتھ کارڈ دیکر غریبوں کا علاج کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔ موجودہ حکومت آئی تو بجلی کی قیمت حد سے ذیادہ بڑھ چکی تھی، عام آدمی کو نہ تو بجلی کی قیمت میں کمی کی توقع تھی اور نہ ہی اپنی آمدنی بڑھانے کا کوئی وسیلہ تھا، لہذا انہوں نے بچت کی پالیسی اپنائی اور سولر سسٹم کے استعمال کو فروغ دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت اب اس معاملے پر کنفیوز ہو چکی ہے کیونکہ عوام سستی بجلی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ حکومت مہنگی بجلی بیچنا چاہتی ہے۔ ایسے میں حکومت کبھی فیول مہنگا ہونے کو مہنگی بجلی بیچنے کی وجہ بتاتی ہے اور کبھی آئی ایم ایف کی شریئط کا بہانہ پیش کرتی یے۔

لہذا سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ شمسی توانائی کے حوالے سے ایک حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ اس مسلئے کی سنگینی سمجھنے والے ایک سابق سیکریٹری توانائی کے مطابق سولر پینلز کا معاملہ بھڑوں کا چھتہ بن چکا ہے۔ اگر شہباز شریف نے سولر پینلز مہنگے کیے یا ان سے پیدا ہونے والی بجلی کی سرکاری قیمت خرید کم کی تو پاکستانی مڈل کلاس انہیں کبھی معاف نہیں۔  انکا کہنا ہے پاکستانی مڈل کلاس سیاسی بیانیے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ سولر پینلز بارے بے حد حساس ہے، لیکن شہباز حکومت کےکان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، معلوم نہیں وہ کس معاملے میں اتنی مصروف ہے کہ ملک کےسب سے بڑے مسئلے کا حل نہیں نکال سکی۔

حکومت 167 روپے فی لیٹر پٹرول خرید کر 272 میں کیوں بیچتی ہے؟

سہیل وڑائچ کے بقول جس محفل میں بھی جائیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ حکومت بیانیہ نہیں بنا سکی۔ حکومت کا کوئی اقدام زمینی حقائق کو نہیں بدل رہا۔ جنگ میں فتح کے باوجود، سیاسی حقائق نہیں بدلے، معیشت میں استحکام آیا ہے لیکن اس پر کوئی تالیاں بجانے کوتیار نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت عوامی ترجیحات کو جاننے ، پہچاننے اور تسلیم کرنے سے انکاری ہے تو وہ اس مسئلے کے حل کی طرف آگے کیسے بڑھے گی؟

موجودہ مخلوط حکومت محض دو سیاسی جماعتوں کا اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ دو متضاد معاشی پالیسیوں کا بھی انضمام ہے۔ گو آج کی دنیا نظریات کی دنیا نہیں مگر پھر بھی پیپلزپارٹی کی معاشی سوچ میں سوشلزم کا تڑکا ہے اور نون لیگ کی سیاست میں مارکیٹ اکانومی کا غلبہ ہے۔ اگر پیپلزپارٹی بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کیلئے سرکاری نوکریاں دیتی رہی ہے تو نون لیگ سرکاری کارپوریشنز سے زائد افراد نکال کر معیشت پر بوجھ کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اگر پیپلزپارٹی غریب اور مزدور کی حمایتی تھی تو نون لیگ صنعت کار اورسرمایہ کار کی حامی تھی۔ جب تک پارٹی اور حکومت کی زمام کار نوازشریف کے ہاتھ میں رہی وہ پہلی اور آخری ترجیح معیشت کو دیتے رہے، انہیں شدت سے احساس تھا کہ مقبول سیاست، خوشحال معیشت سے جنم لیتی ہے ۔ لیکن آج کی وفاقی حکومت ماضی کی قوت متحرکہ اور قوت نافذہ سے مکمل طور پر محروم نظر آتی ہے۔

سینیئر صحافی کے بقول حکومت کے دفاع میں کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف نے کڑی شرائط لگا رکھی ہیں اور حکومتی فیصلہ سازوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ جب حکومت سے بجٹ کے بعد کی مایوسی بارے پوچھا جاتا ہے تو وہ صاف جواب دیتی ہے کہ اگلے دو تین سال میں کسی بڑے ریلیف کا امکان نہیں خصوصا جب تک ملکی معیشت دستاویزی شکل نہیں اختیار کرتی، لیکن فوجی قیادت کی خواہش اور کوشش ہے کہ اگلے تین ماہ میں غیر ملکی زرمبادلہ میں ڈرامائی اضافہ ہو۔ لیکن دیکھئے اصل میں کیا ہوتا ہے، خصوصا سولر پینلز کے معاملے میں کیا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

Back to top button