مولانا فضل الرحمٰن کے بغیر آئینی ترامیم نہیں ہوسکیں گی : عرفان صدیقی

مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو آئینی عدالت پر اعتراض نہیں تھا، انہیں ججز کی تقرری کے فارمولے پر بھی اعتراض نہیں تھا۔ مولانا صاحب نےاختلافات کی خاص طور پر نشاندہی نہیں کی تھی۔

سینیٹر عرفان صدیقی نےکہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کےبغیر آئینی ترامیم نہیں ہوسکیں گی۔اس وقت بھی میڈیا میں پانچ مسودے گردش کررہے ہیں۔

عرفان صدیقی نےکہا مولانا فضل الرحمٰن کا کہناتھا کہ آئینی ترمیم میں جلدی نہ کریں،امید ہے مولانا فضل الرحمٰن  کا مسودہ بھی ہماری ترامیم کے اردگرد ہوگا۔

عرفان صدیقی نے کہا توقع تھی کہ مولانا فضل الرحمٰن کی وجہ سے نمبر پورے ہوچکےہیں،شاید یہ ہماری خوش فہمی تھی۔ ترمیم لانے کےوقت کا ابھی تعین نہیں ہوا۔ آئینی ترمیم ستمبر میں یا اکتوبر میں آسکتی، جیسے ہی مولانا فضل الرحمٰن مطمئن ہوجائیں گے آئینی ترمیم آجائے گی۔

عرفان صدیقی کا کہناتھا کہ دو دن پہلے مولانا فضل الرحمٰن آئینی ترامیم کےلیے بلائی گئی میٹنگ میں موجود تھے،جہاں 3 گھنٹوں کےدوران ایسا معلوم ہواکہ انہیں آئینی عدالتوں یا ججز کی تقرری کےفارمولے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوں نےکہا کہ آئینی ترامیم میں نئی آئینی عدالتوں اور ججز کی تقرری 18 ویں ترمیم پر لے کر جانے کا بنیادی نقطہ یکساں ہی رہےگا۔

سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد آئینی ترامیم کا اپڈیٹڈ مسودہ تیار کرلیا گیا ہے : عطا تارڑ

Back to top button