فوج کا تشکیل کردہ موجودہ ہائبرڈ نظام حکومت کتنا عرصہ چلے گا ؟

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور اقتدار میں ایجاد کیا جانے والا ہائبرڈ نظام حکومت اب شہباز شریف کے دور میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس حکومتی نظام کے تحت اب طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اتحادی حکومت دونوں ایک صفحے پر ہیں اور اندرونی محاذ پر کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد اب سفارتی محاذ پر فتوحات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے حال ہی میں تسلیم کیا تھا کہ پاکستان میں ہائبرڈ نظام حکومت رائج ہے اور بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ یعنی وہ ہائبرڈ نظام حکومت جسے عمران کے دور میں مسلم لیگ نون سخت تنقید کا نشانہ بناتی تھی، آج شہباز شریف کے دور اقتدار میں اسے نہ صرف مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے بلکہ اس کی خوشی بھی  منائی جا رہی ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نظام حکومت تب تک ہی چلے گا جب تک عمران سیاسی طور پر زندہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکمرانوں کا دشمن مشترکہ ہے لہذا وہ اکٹھے ہیں لیکن جس روز یہ دشمن سیاسی طور پر ختم ہو گیا اس دن اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آ جائیں گے اور یہ نظام بھی ٹوٹ جائے گا۔

یاد رہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے موجودہ ہائبرڈ نظام حکومت عمران خان کے دور اقتدار میں تشکیل دیا تھا جنہیں 2018 میں دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے جنرل قمر باجوا اور جنرل فیض حمید برسر اقتدار لائے تھے۔ عمران کو برسر اقتدار لانے کا فیصلہ تب ہوا جب بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے لندن میں ایک میثاق جمہوریت کر لیا۔ ماضی میں یہ دونوں سیاسی جماعتیں فوج کے ہاتھوں استعمال ہو کر ایک دوسرے کی حکومت گرایا کرتی تھیں اور اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا پورا کرتی تھیں۔ لیکن جب دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ہاتھ ملا لیا تو اسٹیبلشمنٹ نے ایک تیسری جماعت کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا لہٰذا عمران خان کو وزیراعظم بنوا دیا گیا۔

تاہم عمران خان کی نالائقیوں اور جنرل باجوہ سے اختلافات کے باعث ہائیبرڈ نظام حکومت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران وہ پہلے وزیراعظم بنے جن کو پارلیمنٹ نے ایک تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے رخصت کیا۔ 2024 کے الیکشن کے بعد دوبارہ سے ہائبرڈ نظام حکومت تشکیل دیا گیا جو ابھی تک کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سسٹم کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے پاس ایک ایک بڑا عہدہ ہے، یعنی آصف زرداری کے پاس صدارت جبکہ شہباز شریف کے پاس وزارت عظمی ہے لیکن اصل فیصلہ سازی فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں جو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر یکساں متحرک ہیں۔

یاد رہے کہ جنرل عاصم منیر نے حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ سے ایک اہم ملاقات کی جس کے بعد امریکی صدر عاصم منیر کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں۔ دراصل ایسی ملاقاتیں سربراہان مملکت کے مابین ہوتی ہیں لیکن چونکہ یہاں ہائبرڈ نظام حکومت رائج ہے اس لیے امریکی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم یا صدر سے ملاقات کی بجائے آرمی چیف سے ملاقات کی۔

صدر آصف زرداری کو ہٹانے کی سازش: افواہوں میں کتنی حقیقت ہے ؟

اسی پس منظر میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے چند روز قبل  ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ معیشت کی بحالی، بھارت کی فوجی شکست اور امریکا سے روابط میں بہتری سمیت تمام کامیابیاں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے باہمی تعاون، اور اسلام آباد اور پنڈی کے مابین شاندار کوآرڈینیشن  کی وجہ سے ممکن ہوئیں۔ خواجہ آصف کے ریمارکس پر بعض حلقوں نے شاید تیوریاں چڑھائی ہوں، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق یہی سچ ہے کیونکہ ہائبرڈ حکومت اب ایک اٹل حقیقت بن چکی ہے۔

ہائبرڈ سسٹم نامی اصطلاح، جو پہلے محتاط لفظوں میں استعمال ہوتی تھی، اب پاکستان کے سیاسی و معاشی استحکام کی کنجی قرار دی جا رہی ہے۔ پہلے پی ٹی آئی اس کی چیمپین ہوا کرتی تھی، لیکن آج نون لیگ اور پی پی پی کو یقین ہے کہ ان کی سیاسی بقا ہائیبرڈ سسٹم کی مخالفت میں نہیں بلکہ اس کا حصہ بننے میں ہے۔ لیکن کیا ہائیبرڈ نظام حکومت دائمی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

Back to top button