موجودہ حکمرانوں کا انجام بھی عمران خان جیسا کیوں ہو گا؟

کرپشن مقدمات میں قید کی سزا کاٹنے والے عمران خان نے بطور وزیرِ اعظم جو بویا تھا آج وہی کاٹ رہے ہیں لیکن موجودہ حکمران بھی عمران خان کی ہی انتقامی سیاست کی حکمتِ عملی لے کر آگے چل رہے ہیں جس کا انجام وہی ہوگا جو عمران خان کا ہوا ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار روف کلاسرا نے اپنے سیاسی تجزیے میں ملکی سیاست کے تین بڑے ادوار کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں حکمرانوں کا عروج و زوال زیادہ تر ان کے اپنے فیصلوں سے جڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان کی مثالیں دیتے ہوئے لکھا کہ تاریخ بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ مخالفین سے زیادہ خطرناک انسان کی اپنی غلط حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ روف کلاسرا نے 2014 کے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں آنے والی ڈرامائی تبدیلیوں کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق تب جو رہنما اقتدار سے باہر تھے اور احتساب کے شکنجے میں تھے، وقت بدلنے پر وہی شخصیات دوبارہ ایوانِ اقتدار میں آ گئیں، جبکہ احتساب کا بیانیہ اپنانے والے خود کیسز میں پھنس گئے۔ ان کے بقول یہ تبدیلی محض سیاسی انتقام کا نتیجہ نہیں بلکہ فیصلوں کے تسلسل کا منطقی انجام ہے۔
روف کلاسرا کے مطابق اگر سیاسی انتقام جیسے غلط فیصلے بار بار دہرائے جائیں تو ان کا نتیجہ بھی ہمیشہ وہی نکلتا ہے۔ عمران نے سیاسی انتقام کی جو پالیسی اپنائی وہ ماضی کے حکمران بھی اپناتے رہے ہیں اور اب موجودہ حکمران بھی وہی پالیسی لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ویسے بھی سیاسی وابستگیاں اور طاقت عارضی ہوتی ہیں، مگر فیصلوں کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے روف کلاسرا نے لکھا کہ بعض انتظامی اور سیاسی فیصلوں نے ان کے مخالفین کو منظم ہونے کا موقع دیا۔ خاص طور پر عسکری قیادت کے تقرر اور انتخابی حکمتِ عملی کے معاملات نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا جہاں ان کے خلاف تحریک زور پکڑ گئی۔ ان کے مطابق بھٹو کے مخالفین نے ان کے فیصلوں سے فائدہ اٹھایا۔
نواز شریف کے حوالے سے انہوں نے کارگل تنازع اور فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات کی خرابی کو ان کے زوال کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بروقت اور درست فیصلے نہ لینے سے نواز شریف کے لیے بار بار سیاسی بحران پیدا ہوئے جس نے ان کے اقتدار کے خاتمے اور جلاوطنی کی راہ ہموار کی۔ روف کلاسرا کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنما جب خود کو عقل کل اور ناقابلِ خطا سمجھنے لگتے ہیں تو مشاورت کا عمل کمزور ہو جاتا ہے اور یہی کمزوری سیاسی بحران کو جنم دیتی ہے۔
پی ٹی آئی کا دھلائی اور ٹھکائی سے بچنے کیلئے نیا بھگوڑا احتجاج
عمران خان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے نعرے نے وقتی طور پر انہیں عوامی مقبولیت عطا کی، لیکن یہی حکمتِ عملی بعد میں سیاسی درجۂ حرارت کو اس حد تک اوپر لے گئی کہ مفاہمت کے دروازے بند ہوتے چلے گئے۔ ان کے مطابق جب اداروں اور سیاسی قوتوں کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے تو نظام کا ردعمل بھی شدت اختیار کر لیتا ہے۔ روف کلاسرا نے عالمی تاریخ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے طاقتور حکمرانوں کے زوال کو انکے اپنے فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا استدلال ہے کہ خواہ وہ مقامی سیاست ہو یا عالمی تاریخ، غرور اور مشاورت سے گریز اکثر سیاست دانوں کے زوال کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
کلاسرا کے مطابق پاکستان میں سیاسی المیے کسی ایک فرد یا ادارے کی غلطیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ قیادت کے فیصلوں کا مجموعی عکس ہوتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکمران بھی سیاسی انتقام اور یکطرفہ احتساب کی روش برقرار رکھتے ہیں تو تاریخ کا پہیہ ایک بار پھر وہی منظر دہرائے گا۔ لہذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیاسی استحکام کا راستہ انتقام نہیں بلکہ برداشت، مکالمے اور قانون کی بالادستی سے ہو کر گزرتا ہے۔
