عمرہ کی آڑ میں انسانی سمگلنگ کا نیا خوفناک طریقہ بے نقاب

انسانی سمگلروں نے جسم فروشی اور گداگری جیسے مکروہ دھندوں کے بعد اب پاکستانی نوجوانوں کو عمرے کی آڑ میں غیر قانونی طور پر یورپ بھجوانے کا نیا خطرناک طریقہ اختیار کر لیا۔ ایجنٹوں کے اس خوفناک اور منظم طریقے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی چکرا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی سمگلر اب صرف جعلی وعدوں اور غیر قانونی راستوں تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ نوجوانوں کو عمرہ کا “کور آپریشن” استعمال کرتے ہوئے ان کی فیملیز کے ہمراہ سعودی عرب پہنچاتے ہیں جہاں سے نوجوانوں کو مختلف غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچایا جاتا ہے۔
تفتیشی اداروں کے مطابق یہ کوئی اتفاقی واقعات نہیں بلکہ ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کا نیا طریقہ واردات ہے جو تین مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس طریقہ واردات کے تحت سمگلرز پاکستانی نوجوانوں کو پہلے مرحلے میں ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ عمرہ پر روانہ کرتے ہیں تاکہ پاکستانی ایئرپورٹس پر تعینات امیگریشن حکام کی نظر میں کوئی شک پیدا نہ ہو۔ اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان “فیملی زائرین” کے طور پر محفوظ طریقے سے ملک سے باہر نکل جائیں۔ تاہم اس طریقہ واردات میں سعودی عرب کو محض ایک ٹرانزٹ حب کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جہاں سے نوجوانوں کو خفیہ طور پر لیبیا منتقل کیا جاتا ہے۔ وہاں پہلے سے موجود نیٹ ورک انہیں یورپ کے لیے خطرناک سمندری راستوں پر روانہ کرتا ہے۔ اس پورے عمل میں نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بظاہر قانونی سفری دستاویزات کے ذریعے دھوکہ دیا جاتا ہے۔
تفتیشی اداروں کے مطابق اس نیٹ ورک میں ہر فرد سے 20 سے 30 لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ رقم پاکستان میں موجود مقامی ایجنٹس کے ذریعے جمع کر کے حوالہ ہنڈی کے ذریعے سعودی عرب، لیبیا اور یورپ میں موجود سرغنوں کو منتقل کی جاتی ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے کے مطابق اس نیٹ ورک کا مرکزی کردار لقمان عرف حکیم ہے، جو مبینہ طور پر منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھتا ہے اور کئی برسوں سے لیبیا میں بیٹھ کر اس غیر قانونی کاروبار کو چلا رہا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان میں ایک وسیع مالی اور سہولت کار نیٹ ورک بھی سرگرم ہے۔
اس حوالے سے جاری تحقیقات میں سب سے زیادہ تشویشناک انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ اس نئے طریقہ واردات میں عمرہ کو بطور “سیف روٹ” استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک سینئر ایف آئی اے افسر کے مطابق، یہ طریقہ اس لیے اپنایا گیا ہے تاکہ ایئرپورٹس پر سیکیورٹی چیک کو باآسانی چکمہ دیا جا سکے۔ اس طریقہ کار کے تحت نوجوانوں کو اکیلے سعودی عرب بھجوانے کی بجائے ان کے ان کی فیملیز کے ساتھ عمرہ پر بھیجا جاتا ہے، پھر سعودی عرب میں انہیں الگ کر کے لیبیا منتقل کر دیا جاتا ہے، جہاں سے غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے یورپ روانگی ہوتی ہے۔ ان کشتیوں میں نہ حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں اور نہ ہی انسانی جان کی کوئی پرواہ کی جاتی ہے، جس کے باعث ہر سال درجنوں حادثات پیش آتے ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ سلسلہ صرف یورپ پہنچانے تک محدود نہیں رہتا۔ متاثرین کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں، جس کے بعد وہ مکمل طور پر اسمگلروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں جبری مشقت یا مزید غیر قانونی کاموں پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ یوں یورپ کی طرف پاکستانی نوجوانوں کا یہ سفر اکثر بہتر مستقبل کی بجائے موت، گمشدگی اور ناقابل تلافی صدمے پر ختم ہوتا ہے۔
