KP حکومت کا سولر پراجیکٹ دو سال سے تاخیر کا شکار کیوں؟

دو سال قبل پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے عوامی ریلیف کے بڑے دعوؤں کے ساتھ شروع کیا گیا سولرائزیشن منصوبہ آج بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ سولر منصوبے میں دو سال کی غیر معمولی تاخیر نے خیبرپختونخوا حکومت کی نااہلی اور ترجیحات کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عوام بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں خیبرپختونخواحکومت کا سولر پراجیکٹ عملی ریلیف دینے کی بجائے سخت عوامی تنقید کی زد میں آ چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کو عوامی ریلیف اور مفادات سے کوئی سروکار نہیں ان کی توجہ صرف اور صرف احتجاجی سیاست، جلسے جلوسوں اور دھرنوں پر مرکوز ہے یہی وجہ ہے کہ خیبرپختوانخوا میں سولر پراجیکٹ جیسے کئی عوامی فلاحی منصوبے مسلسل تاخیر کا شکار ہیں

خیال رہے کہ 2024 میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے قیام کے بعد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے سولر منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت 1 لاکھ 30 ہزار گھرانوں کو سولر سسٹم دینے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جن میں سے 65 ہزار کو مفت جبکہ باقی 65 ہزار کو 50 فیصد سبسڈی پر سہولت فراہم کی جانی تھی۔ ہر گھر کو تقریباً 2 کلوواٹ کا سولر سسٹم دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 13 ارب روپے رکھی گئی تھی۔ یہ منصوبہ نہ صرف توانائی بحران پر قابو پانے بلکہ غریب طبقے کو بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے نجات دلانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم، 2024 اور 2025 کی گرمیاں گزرنے کے باوجود اس منصوبے پر عملی پیش رفت نہ ہونا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

پاکستان میں ایرانی ریال کی قیمت میں 400 فیصد اضافہ کیوں؟

ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا کے سولر پراجیکٹ میں تاخیر صرف حکومتی نااہلی کا نتیجہ نہیں بلکہ ابتدائی مرحلے میں منصوبے کے ڈیزائن، صلاحیت اور طریقہ کار پر واضح حکمت عملی نہ ہونے کے باعث بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ جس کی وجہ سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔ جبکہ صوبائی بیوروکریسی اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بھی اس منصوبے کی تکمیل میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ منصوبے سے وابستہ کئی اداروں کے درمیان رابطے کی کمی نے فیصلہ سازی کے عمل کو سست کر دیا، جس کے نتیجے میں پی سی ون کی منظوری بھی تاخیر کا شکار رہی اور تاحال یہ منصوبہ شروع نہیں ہو سکا۔ مبصرین کے مطابق، پاکستان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر کی ایک بڑی وجہ ادارہ جاتی پیچیدگیاں اور سست روی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کا سولر پراجیکٹ بھی اسی روایت کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے سولر پراجیکٹ کو اس وقت مزید دھچکا لگا جب اس میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے۔ ٹینڈر کے عمل پر سوالات اٹھنے کے بعد ٹھیکیداروں کی پری کوالیفکیشن منسوخ کر دی گئی، جس سے منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو گیا۔ تاہم اب حکام کا دعویٰ ہے کہ  منصوبے میں حائل بیشتر رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں اور پی سی ون حتمی منظوری کے مراحل میں ہے۔ جلد ہی ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کر کے گھروں میں سولر سسٹم کی تنصیب شروع کر دی جائے گی۔

Back to top button